?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نجی شعبے کو دیا جانے والا قرضہ رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، لیکن بینکاروں کا کہنا ہے کہ یہ رقوم سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں ہو رہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پیر کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ نجی شعبے کی کریڈٹ آف ٹیک میں اچانک اضافہ دیکھا گیا، جو صرف 41 ارب روپے (گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں) سے بڑھ کر ایک کھرب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔
گزشتہ دو برس کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت اور صنعت میں سست روی نجی شعبے کی کمزور کریڈٹ سرگرمی کی بڑی وجہ ہے، نجی شعبے کو دیا گیا قرض مالی سال 25 میں ایک ہزار 81 ارب روپے، مالی سال 24 میں 513 ارب روپے، جب کہ مالی سال 23 میں صرف 46 ارب روپے تھا۔
مالی سال 26 کے دوران یکم جولائی سے 22 نومبر کے دوران نجی شعبے کو دیا گیا قرض ایک ہزار 202 ارب روپے رہا، جو بظاہر زیادہ معاشی سرگرمی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم بینکاروں نے بتایا کہ زیادہ تر رقوم قلیل المدتی ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کے لیے لی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توسیعی سرمایہ کاری نہیں۔
بینکاروں نے کہا کہ موجودہ قرضے بنیادی طور پر چاول کی فصل کی بھوسی نکالنے اور دیگر کارروائیوں کے لیے ہیں۔
چاول ملک کی بڑی فصلوں میں سے ایک ہے، جس کی بین الاقوامی منڈی ایک ہزار ارب روپے سے بھی زائد ہے، مالی سال 24 میں چاول کی برآمدات 3.692 ارب ڈالر (1.037 کھرب روپے) تھیں، جب کہ مالی سال 25 میں یہ 2.952 ارب ڈالر (829.5 ارب روپے) رہیں، چاول کی مقامی مارکیٹ بھی بہت بڑی ہے۔
بینکاروں کے مطابق کم شرح سود کے باعث ورکنگ کیپیٹل کی بلند سطح کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ اس سے خطرہ کم ہوتا ہے، مالی سال 25 میں شرح سود میں کمی کے باوجود اتنی زیادہ قرض گیری نہیں دیکھی گئی، لیکن مئی 2025 سے شرح سود 11 فیصد پر جمی ہوئی ہے۔
زیادہ قرض کے باوجود سرمایہ کاری ابھی بھی لیکویڈیٹی کی منتظر ہے، جیسا کہ گزشتہ تین برسوں کی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔
سرمایہ کاری کی بدترین صورتحال
پاکستان کا سرمایہ کاری برائے جی ڈی پی تناسب مالی سال 24 میں 13.1 فیصد رہا، جو پچھلے 50 سال میں سب سے کم ہے، یہ مالی سال 23 کے 14.13 فیصد سے نمایاں کمی تھی، مالی سال 25 میں یہ تناسب 13.6 فیصد تک پہنچا، جو معمولی بہتری ہے لیکن اب بھی مالی سال 23 سے کم ہے۔
بینکاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال 2 سے 2.6 فیصد کی کمزور شرح نمو سے گھٹنے ٹیکتی معیشت کے لیے بدترین صورت حال کی عکاسی کرتی ہے، مالی سال 25 کے لیے جی ڈی پی نمو کو بعد ازاں 2.6 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کیا گیا تھا۔
حکومت مسلسل سرمایہ کاری کی اپیل کر رہی ہے اور مقامی سرمایہ کاروں سے بھی حصہ ڈالنے کو کہہ رہی ہے، لیکن دوسری جانب صنعتیں اور کاروباری ادارے 60 فیصد تک کے بھاری ٹیکسوں (بشمول سپر ٹیکس) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
بدترین بے روزگاری اور بڑھتی غربت کے باوجود حکومت سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ابھی تک کوئی ترغیبات نہیں دے سکی۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری بھی نہیں آ پا رہی، کیوں کہ ملک کی 2 صوبوں اور 2 پڑوسی ممالک کے ساتھ صورتحال جنگ جیسی بنی ہوئی ہے۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو تل ابیب ریاض تعلقات معمول پر لانے کے لیے پرامید
?️ 16 دسمبر 2022سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں تعینات متعدد ممالک کے سفیروں کے اجلاس میں
دسمبر
ماسکو میں دہشت گردانہ پر روس کا ردعمل
?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا ایک تقریر میں کہا
مارچ
قومی اسمبلی کی کارروائیاں قانون کی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتیں:حکومت
?️ 13 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محسن
مارچ
سینیٹ امیدواروں کا حتمی فیصلہ کرے گی پی ٹی آئی کا پارلیمانی بورڈ کرے گا
?️ 11 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سینیٹ انتخابات میں پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف
فروری
ایران کی ہتھیاروں کی طاقت نے اسرائیل کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے: صیہونی ذرائع
?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں: صہیونیستی ریاست کے میڈیا ذرائع نے، اس ریاست کے ایک سیکیورٹی
نومبر
اسرائیل نے جو بائیڈن سے محمد بن سلمان پر دباؤ کم کرنے کی اپیل کردی، اسرائیلی تحقیقاتی ادارے کا اہم انکشاف
?️ 23 اگست 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیل کے ایک تحقیقاتی ادارے نے اہم انکشاف
اگست
امریکہ یوکرین میں جنگ کا خاتمہ کیوں نہیں چاہتا ؟
?️ 19 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے
جون
مزاحمتی محور کے خلاف عربی عبرانی بلاک کا افسانہ کہاں گیا؟
?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: حماس کے کامیاب آپریشن اور صیہونی حکومت کے دفاعی-سکیورٹی ڈھانچے
اکتوبر