?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مارچ میں 2 سال بعد پہلی بار 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے بڑے سرپلس میں تبدیل ہوگیا، جس کا خسارہ فروری میں 36 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس کمی کے بعد رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) جولائی تا مارچ کے دوران سالانہ بنیادوں پر 74 فیصد کی بڑی کمی کے بعد 3 ارب 37 کروڑ ڈالر رہ گیا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں یہ تنزلی 11 ارب 25 کروڑ ڈالر کم درآمدات کی وجہ سے آئی، جو پُرتعیش مصنوعات اور غیر ضروری خام مال پر پچھلے سال لگائی گئی درآمدی پابندی کا براہ راست نتیجہ تھا، جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچا، آٹو سیکٹر اور موبائل فون کے اسمبلنگ پلانٹس پلانٹ بند ہو گئے۔
جنوری تا مارچ تک تیسری سہ ماہی، رواں مالی سال کی واحد سہ ماہی تھی، جس میں 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا خالص فاضل پن دیکھا گیا، پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 2 ارب 45 کروڑ ڈالر اور دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں ایک ارب 31 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، جو تنزلی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ پورے مالی سال 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر ہوگا، تاہم یہ بھی پاکستان جیسے ملک کے لیے بڑی رقم ہے، جو کم زرمبادلہ کے ذخائر سے دوچار ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران سی اے ڈی کم ہو کر 3 ارب 37 کروڑ ڈالر تک آ گیا جو گزشہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 13 ارب ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
درآمدات میں بڑے پیمانے پر تنزلی نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 11.4 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ برآمدات گر رہی ہیں اور مجموعی معیشت مالی سال میں بمشکل 0.5 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ معاشی نمو بڑھنے کی رفتار 0.4 سے 0.6 فیصد تک رہے گی۔
اشیا کی برآمدات جولائی تا مارچ کے دوران گر کر 21 ارب 9 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 23 ارب 71 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم خدمات کی برآمدات 25 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 5 ارب 53 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اشیا کی درآمدات بھی 11 ارب 25 کروڑ ڈالر کی بڑی کمی کے بعد 41 ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں، جو گزشت برس اسی عرصے کے دوران 52 ارب 75 کروڑ ڈالر تھیں، خدمات کی درآمدات بھی 39.7 فیصد گر کر 5 ارب 76 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 9 ارب 54 کروڑ ڈالر تھیں۔
اشیا و خدمات کی درآمدات میں بڑی تنزلی کے باوجود تجارتی خسارہ 20 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔


مشہور خبریں۔
مسٹر بلنکن، کیا خون خون سے مختلف ہے؟: یمنی اہلکار
?️ 27 فروری 2023سچ خبریں:یمن کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ
فروری
رفح پر حملہ اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے: بلنکن
?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ رفح میں بڑے پیمانے پر
مارچ
پاکستان نے کیا افغانستان کے ساتھ مواصلاتی راستے کو ایکسپورٹ کراسنگ میں اپ گریڈ
?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:پاکستان کی مرکزی حکومت کی کابینہ کی اقتصادی تعلقات کمیٹی نے
اپریل
صیہونی فوج قابض کابینہ سے کیوں غصہ ہے؟ صیہونی میڈیا کا اعتراف
?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب
دسمبر
پاکستان میں اسٹار لنک کو آپریشنل کرنے کا مرحلہ وار عمل جاری
?️ 25 مارچ 2025 سچ خبریں: پاکستان میں اسٹار لنک کو آپریشنل کرنے کا مرحلہ
مارچ
الیکشن سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا قوم کے نام پیغام
?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے کہا
جولائی
27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں۔ دفتر خارجہ
?️ 30 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر
نومبر
یوکرین جنگ کے بعد اسرائیل کے ہتھیاروں کی ریکارڈ توڑ فروخت
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی وزارت جنگ کے مطابق 2022 میں اس حکومت
جون