?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ دورہ افغانستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے۔
افغان عبوری حکومت نے گزشتہ ماہ جے یو آئی(ف) کے سربراہ کو دورے کی دعوت دی تھی، یہ دورہ 2021 میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد فضل الرحمٰن کا افغانستان کا پہلا دورہ ہو گا۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے آخری بار 2013 میں افغانستان کا سفر کیا تھا اور اس وقت کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی تھی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے آج اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے طالبان کے سپریم لیڈر کی منظوری سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور میں ان سے ملاقات کروں گا، میں طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کے لیے قندھار جاؤں گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹی ٹی پی کا معاملہ بھی افغان حکومت کے سامنے اٹھائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہاں اس بات کا امکان ہے، ہم اپنے تعلقات کو خیر سگالی کے لیے استعمال کریں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حکومت کی نمائندگی کریں گے تو انہوں نے کہا کہ اس دورے کا اہتمام میری جماعت نے کیا تھا لیکن میں نے دفتر خارجہ اور متعلقہ سرکاری حکام سے بھی رابطہ کیا ہے اور اس دورے کے دوران ہم پاکستان اور افغانستان کے مفادات کو مدنظر رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں 3 جنوری کو بریفنگ کا اہتمام کیا تھا، انہوں نے مجھے پاکستان کے موقف اور مطالبات سے آگاہ کیا، میں محسوس کرتا ہوں کہ حکام میرے دورے کو اہمیت دے رہے ہیں اور حکومت اس حوالے سے مجھ سے رابطے میں ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حکومت کی طرف سے طالبان حکمرانوں کو کوئی پیغام پہنچائیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ اپنے رابطوں کو دونوں ممالک کے فائدے کے لیے استعمال کروں گا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ میں طالبان رہنماؤں کو حکومت پاکستان کے موقف اور جو کچھ میں نے حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران دیکھا، اس سے آگاہ کروں گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس دورے سے پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس بات کا انحصار دونوں ملکوں پر ہے، اگر وہ برادرانہ تعلقات اور دوستی برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پیچیدہ مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان کی ایسی نیت ہی نہ ہو تو چھوٹے مسائل بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔
جمعیت علمائ اسلام(ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ مجھے جو اشارے ملے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ میرے دورے کے اچھے نتائج برآمد ہوں، افغانستان بھی اس دورے کو اہمیت دے رہا ہے کیونکہ طالبان سربراہ نے ذاتی طور پر مجھے دعوت دی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ اٹھائیں گے تو انہوں نے کہا کہ اسلامی قانون میں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہر ملک کو داخلی معاملات، امن و سلامتی، ، معیشت، سماجی اصلاحات اور تجارت کے بارے میں پالیسیاں اپنانے کا حق ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آئی بلکہ 20 سالہ جنگ ختم ہو چکی ہے، دنیا کو آخر مسئلہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ہر مسئلے پر بات کرتے ہیں اور امارت اسلامیہ کو ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو ایک ماحول بنانے دیں، امارت اسلامیہ کو احساس ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ چلنا ہے، وہ ایک نظام قائم کررہے ہیں اور جلد اس عمل کو مکمل کر لیں گے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ میں خانہ جنگی کے بڑھتے خطرات
?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر ایف بی آئی
اگست
غزہ میں اسرائیلی جاسوسی آلات کی دریافت
?️ 14 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی ذرائع نے غزہ میں اسرائیل کے جدید جاسوسی
مارچ
امریکی تعلیمی نظام میں اسکینڈل اور طلباء کے ساتھ زیادتی
?️ 9 جنوری 2023سچ خبریں:امریکہ میں شکاگو کے تیسرے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ CPS
جنوری
21ویں صدی کی نسل پرست حکومت کون ہے؟
?️ 20 ستمبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں قطر
ستمبر
غزہ جنگ کے بعد حماس کی نئی جنگی حکمت عملی؛امریکی اخبار کی رپورٹ
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں:امریکی روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف
فروری
سعودی عرب میں 143 سرکاری اہلکاروں کی گرفتاری
?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:سعودی حکام نے رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے الزام میں
مارچ
خوفناک قتل عام کا سبب بننے کے لیے غزہ شہر میں مکمل انٹرنیٹ اور مواصلاتی کٹوتی
?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کی جانب سے شہر پر اپنے وحشیانہ حملوں
ستمبر
ٹوئٹر کی جانب سے اہم ترین فیچر متعارف
?️ 10 ستمبر 2021کیلیفورنیا(سچ خبریں) ٹوئٹر نے ایک ایسے فیچرکا اعلان کیا ہے جس کے
ستمبر