خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا کُرم میں فریقین سے اسلحہ لینے کا متفقہ فیصلہ

?️

پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضلع کُرم میں قیام امن کے لیے فریقین سے اسلحہ لیا جائے گا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

جاری اعلامیے کے مطابق علی امین گنڈاپور نے پشاور میں خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا اختر حیات گنڈاپور کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں ضلع کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے طویل مشاورت کے بعد لائحہ عمل کو حتمی شکل دے دی گئی۔

اس کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کرم کے دونوں فریقین سے اسلحہ جمع کیا جائےگا، دونوں فریقین تمام اسلحہ جمع کرائیں گے جس کے لیے فریقین حکومت کی ثالثی میں آپس میں ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کے لیے وفاقی حکومت اقدامات اُٹھائے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک بھر میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، ہر سطح پر امن یقینی بنانے کے لیے اقدامات اُٹھائے جائیں گے، اجلاس میں چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا اور عسکری حکام نے بریفنگ دی۔

قبل ازیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے ملاقات کرکے صوبے میں قیام امن کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ایوان وزیر اعلیٰ آمد پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا، دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں پورا تعاون کریں گے، کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ ضلع کرم میں کئی دن تک جاری مسلح تصادم کے نتیجے میں 130 اموات کے بعد سیاسی جرگے کی مداخلت سے علاقے میں مکمل جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق رائے کے بعد کرم میں معمولات زندگی بحال ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ مسلح تصادم کے نتیجے میں بند کی جانے والی موبائل فون سروس بھی بحال ہوگئی تھی۔

21 نومبر کو ضلع کرم کے علاقے اپر دیر میں اسی ہائی وے پر ایک گروپ کی جانب سے مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کرکے مسلح فسادات کی ابتدا کی تھی، جس کے بعد سے ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا، پہلے دن دونوں اطراف سے فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ اس کے بعد مسلح تصادم میں مزید کئی افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

مشہور خبریں۔

تل‌آبیب کی نابلس میں فلسطینی زمینوں پر قبضے کی نئی کوششیں

?️ 21 نومبر 2025 تل‌آبیب کی نابلس میں فلسطینی زمینوں پر قبضے کی نئی کوششیں

روسی سفیر نے بھی عمران خان کی تصدیق کر دی ہے:اسد عمر

?️ 14 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے

فلسطین کی تحریکِ احرار: اسرائیلی ریاست کی نئی پالیسیوں سے اسیران کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے

?️ 18 جون 2026سچ خبریں: فلسطین کی "تحریکِ احرار” نے ایک بیان میں کہا ہے

جن مقدمات میں قانون چیلنج ہوا ہے، ان کی الگ کیٹیگری بنانے کی ہدایت جاری کردیں، نامزد چیف جسٹس

?️ 24 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے

اسرائیل کی نئی شرائط کے باعث معاہدے میں تاخیر 

?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اس حوالے سے ایک

یمن کی تقسیم کے لیے امریکی ایلچی پانی سے باہر

?️ 29 نومبر 2021سچ خبریں: یمن کے لیے امریکی ایلچی لنڈر کنگ نے جمعرات کو یمن

عراق کے وزیر اعظم کے خلاف شکایت درج

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:    عراقی صحافی زہیر قاسم حسن نے ملک کے وزیر

نیتن یاہو جھوٹا اور غدار ہے: سابق صیہونی وزیرِ جنگ

?️ 8 فروری 2026سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیرِ جنگ یوآو گالانت نے بنیامین نیتن یاہو پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے