خیبرپختونخوا: پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی نہ دینا ’ناانصافی‘ قرار

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) خیبرپختونخوا سے جوڈیشل کمشین آف پاکستان (جے سی پی) کے رکن احمد فاروق خٹک نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کو گزشتہ 5 برس سے سپریم کورٹ میں ترقی نہ دے کر ان کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔

خیبرپختونخوا سے جودیشل کمیشن کے رکن احمد فاروق خٹک نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس پاکستان کو لکھے گئے خط میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احمد فاروق خٹک نے کہا کہ جے سی پی کے چیئرمین کا فرض تھا کہ وہ اس ہفتے پی ایچ سی کے دو چیف جسٹس کی یکے بعد دیگرریٹائرمنٹ پر توجہ دیتے اور اگلے چیف جسٹس کی بروقت تقرری کے لیے کمیشن کا اجلاس طلب کرتے۔

جے سی پی رکن نے خط میں لکھا کہ موجودہ حالات میں اور خیبرپختونخوا کی قانونی برادری کی طرف سے اٹھائے گئے شدید تحفظات پر قانون اور طے شدہ اصولوں کے مطابق سینئر ترین جج کی بطور چیف جسٹس تقرری کے لیے فوری طور پر کمیشن کا اجلاس بلانے کی درخواست کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر راشد خان کی رٹائرمنٹ اور ان کے بعد جسٹس روح الامین خان کی رٹائرمنٹ کے بعد وفاقی حکومت نے 31 مارچ (آج) جسٹس روح الامین کو نگران چیف جسٹس مقرر کردیا ہے جبکہ یکم اپریل سے جسٹس مسرت حلالی کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی طرف سے ریگیولر چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے آرٹیکل 175 اے کے تحت اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

احمد فاروق خٹک نے کہا کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وفاقی اکائی کی اعلیٰ ترین عدالتوں کی طرف جوڈیشل کمیشن کی سنگین غفلت افسوسناک ہے اور یہ قانونی برادری اور عوام کے ذہنوں میں سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی الگ مثال نہیں ہے جس میں جے سی پی غیر جانبداری کے ساتھ اور میرٹ اور سنیارٹی کے حوالے سے اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ صوبے میں جے سی پی کا نمائندہ ہونے کے ناطے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کو سپریم کورٹ میں تقری نہ دینے کی سنگین ناانصافی کو نظرانداز کرکے کسی اور کی طرف نہیں دیکھنا چاہتے۔

جے سی پی رکن نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ججوں کے ساتھ اس رویے نے پہلے ہی عدلیہ اور قانونی برادری میں احساس کمتری پیدا کردی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اس ناروا سلوک نے عوام میں یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ آئین کے باوجود بھی ریاست کے عدالتی ادارے کی طرف سے وفاقی اکائیوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔

رکن نے مزید لکھا کہ یہ رویہ یقینی طور پر ملک کے مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہے، خاص طور پر جب عدلیہ عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے۔

مشہور خبریں۔

جارج عبداللہ کون ہیں؟ 

?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: فرانسیسی حکام نے آج جمعے کے روز لبنانی کارکن جارج عبداللہ

وزیراعظم انوار الحق کاکڑ آج متحدہ عرب امارات کے 3 روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

?️ 26 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ آج متحدہ عرب امارات

پنجاب میں سکولوں کے نئے اوقات کار جاری، جمعہ کو چھٹی کا اعلان

?️ 1 اپریل 2026لاہور (سچ خبریں) محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے سرکاری

تل ابیب کی الٹی گنتی شروع

?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں:  یمنی پارلیمنٹ کے رکن عبدالسلام جحاف نے انٹرنیٹ پر ایک

پاکستان میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، اموات کی تعداد 87 ہوگئی

?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ملک کے مختلف شہروں میں مون سون کی

غزہ کی پٹی میں تمام اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں: اقوام متحدہ

?️ 22 اگست 2023سچ خبریں:مشرق وسطیٰ امن عمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار

اپنی حد میں رہو؛ عراقی سیاسی مبصر کا برطانوی سفیر سے خطاب

?️ 26 جنوری 2021سچ خبریں:عراق کے ایک سیاسی تجزیہ کار نے عراق میں برطانوی سفیر

مبینہ دھاندلی پراحتجاج، پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اسلام آباد، لاہور میں مقدمات درج

?️ 11 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انتخابات میں مبینہ دھناندلی کے خلاف گزشتہ روز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے