خطے میں کسی جنگ میں امریکی شراکت دار نہیں بنیں گے: وزیر اعظم

خطے میں کسی جنگ میں امریکی شراکت دار نہیں بنیں گے: وزیر اعظم

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان میں عسکریت پسندوں پر علاقائی اڈوں سے حملے کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے جواب میں  کہا کہ اسلام آباد کبھی بھی جنگ میں واشنگٹن کاشراکت دار  نہیں بنے گا۔

پاکستانی میڈیا نے منگل کی شب فرانسیسی اخبار لی فگارو کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کے حوالے سے کہا ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کو تسلیم کرنا ایک اجتماعی عمل ہو، انہوں نے افغانستان میں ہونے والی پیش رفت اور طالبان سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے طالبان کے ساتھ سرکاری سرگرمی کے حوالے سے اپنے ملک کے دیگر پڑوسیوں اور افغانستان کے ارد گرد کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں آگاہ کیا اور مزید کہا: اگر پاکستان طالبان کی حکومتی تنظیم کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنے تو اسے حد سے زیادہ بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے  ملک کی معیشت کو بھی بہت بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

لی فیگارو سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اسلام آباد امریکی صدر جو بائیڈن کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں شامل ہونا چاہتا ہے تاکہ علاقائی اڈوں سے افغانستان میں عسکریت پسندوں پر حملہ کیا جا سکے، اور کیا پاکستان  امریکی فوجی طیاروں کو اجازت دے گا، انہوں نے کہا:ہم  افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گردی نہیں چاہتے۔

عمران خان نے زور دے کر کہا: 2001 سے اب تک پاکستان میں (دہشت گردی کے خلاف جنگ میں) 80,000 لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، اس لیے ہم جنگ میں نہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ امن میں شراکت دار ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا: جب طالبان نے 1990 کی دہائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو وہ سیکورٹی کو بحال کرنے میں کامیاب ہوئے، اور اس وقت پاکستانی تجارتی اور سپلائی ٹرک آزادانہ طور پر کام کر سکتے تھے، اس لیے وسطی ایشیا سے افغانستان کے راستے سے اقیانوس ہند  تک تجارت ان کے فائدہ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد افغان سرزمین پر کارروائیاں کرتے ہیں تو طالبان کو نقصان پہنچے گا، اس لیے بین الاقوامی دہشت گردی کو روکنا ان کے مفاد میں ہے۔

حالیہ دنوں میں عمران خان نے افغانستان میں واشنگٹن کی کارروائیوں اور بیرون ملک اپنی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اپنے رویے کو بدلنے کی ضرورت پر بھی تنقید کی اور سی، این، این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا الٹا اثر ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

روس کا سلامتی کونسل سے اسرائیل کے لیے مطالبہ

?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: سلامتی کونسل میں روس کے نمائندے نے غزہ میں اسرائیل

الاخبار نے یورپی ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے: امریکہ اور اسرائیل ایران کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں

?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: لبنان کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ یورپی فوجی

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو پاکستان میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ طلال چوہدری

?️ 3 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا

احتجاج کی دھمکی کے بعد وزیر اعظم کا فضل الرحمٰن سے رابطہ، تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

?️ 6 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے

لبنان میں نئی حکومت بننے کے آثار؛حزب اللہ کا رد عمل

?️ 28 جولائی 2021سچ خبریں:نیوز ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ لبنان کے صدر اورنئے

اسلامی انقلاب نے ایران کو ایک طاقتور ملک میں تبدیل کر دیا : پاکستانی سفیر

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:  اسلام آباد میں IRNA کے نمائندے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو

پاکستان اور جرمنی امن، ترقی اور انسانی وقار کی مشترکہ اقدار کے حامل ہیں: مریم نواز

?️ 1 نومبر 2025 لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے

رئیل می کا سی 67 پاکستان میں متعارف

?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی نے مڈ رینج کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے