حکومت نے آئی ایم ایف کی تجویز پر کیپٹو پلانٹس کے ٹیرف میں اچانک اضافہ کر دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کو فوری طور پر صنعتی کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کے لیے گیس کے نرخوں میں 23 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑگیا اور بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی کو کم کرنا پڑا ہے، تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دورے پر آئے اسٹاف مشن کے ساتھ پالیسی مذاکرات جاری رہیں اور چند ہفتوں میں تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے لیے پالیسی مذاکرات کیے جاسکیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں شامل اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ نیتھن پورٹر کی سربراہی میں آئی ایم ایف مشن نے وعدوں کے باوجود صنعتی سی پی پیز کو قدرتی گیس یا مائع قدرتی گیس یا دونوں کی فراہمی پر ’گرڈ لیوی‘ پر سخت موقف اختیار کیا۔

اسی وجہ سے حکومت نے 7 مارچ 2025 سے 791 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) گرڈ لیوی عائد کرنے کے لیے تمام رسمی کارروائیاں تیزی سے مکمل کیں اور اس کی کاپیاں آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن کو فراہم کیں۔

سیکریٹری پیٹرولیم مومن آغا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی آرڈیننس 2025 (2025 کا پہلا) کے سیکشن 3 کی ذیلی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے کہ مذکورہ سیکشن 3 کی ذیلی شق (1) کی قیمت 791 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ ہوگی۔

حکومت کی جانب سے مذکورہ کیٹیگری کے لیے گیس کے نرخوں میں 500 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد گیس کی مجموعی قیمت 4 ہزار 291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوجائے گی۔

لیکن ٹیرف کا یہ اضافہ یہاں نہیں رکے گا، مذکورہ آرڈیننس کے تحت حکومت جولائی 2025 میں گرڈ لیوی میں 10 فیصد، فروری 2026 میں 15 فیصد اور اگست 2026 تک مزید 20 فیصد اضافہ کرے گی، جس سے گیس کی آخری قیمت 6 ہزار روپے کے قریب پہنچ جائے گی تاکہ صنعت کو نیشنل پاور گرڈ میں منتقل کرنے کے لیے گیس کی فراہمی تادیبی ہو سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کی شرحوں کو ختم یا کم کرکے بجلی کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ کمی کی تجاویز کو قبول نہیں کیا، کیونکہ اس سے بجٹ پر بہت بڑا مالی اثر پڑے گا، اصلاحات کے بعد ٹیکس نیٹ میں توسیع تک اسے ناقابل عمل قرار دیا گیا ہے۔

تاہم بنیادی شرح میں 2 سے ڈھائی روپے فی یونٹ کی کٹوتی، جس میں متعلقہ کم ٹیکس بھی شامل ہے، صارفین کو گرڈ لیوی سے اضافی آمدنی، آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں ترمیم یا خاتمے، کم سود کی ادائیگی اور مستحکم شرح تبادلہ کی وجہ سے دستیاب ہوسکتا ہے، یہ اگلے مہینے اور جولائی تک نافذ العمل ہوسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے صنعتی پلانٹس پر گرڈ لیوی کے نفاذ سے بچنے کی پوری کوشش کی، حالانکہ گزشتہ سال فنڈ کے ساتھ 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے حصے کے طور پر معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، کئی ماہ سے حکومتی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی بجلی کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ کمی اور مستقبل میں صنعتوں کے لیے سستا سرما پیکج جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

دریں اثنا ایک مختصر سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار آئی ایم ایف کی لچک اور پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کا جائزہ لیں گے اور موسمیاتی مطابقت پذیری اور تخفیف کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کریں گے، ساتھ ہی اس سہولت کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کوششوں پر زور دیا۔

پاکستان پہلے ہی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی آر ایس ایف کے لیے باضابطہ درخواست کر چکا ہے، جو آب و ہوا سے متاثرہ ممالک کو پیش کی جانے والی سستی اور طویل سہولت ہے، تکنیکی فنڈ مشن نے حال ہی میں حکام کے ساتھ بات چیت مکمل کی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا عملہ بجلی کمپنیوں کی نجکاری کی ٹائم لائن سے مطمئن نہیں تھا، اور ان کے نقصانات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، حکومت پہلے مرحلے میں اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی ڈسکوز کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بعد ملتان، لاہور اور حیدرآباد ڈسکوز کو فروخت کیا جائے گا۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی ضرورت کے مطابق 30 جنوری سے آف گرڈ لیوی آرڈیننس جاری کیا لیکن لیوی کی شرح کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا تھا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تاخیر کے نتیجے میں اس کوتاہی کی وجہ سے شرح میں اضافہ ہوا، آرڈیننس کے تحت لیوی سے حاصل ہونے والی رقم دیگر صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

یہ لیوی قدرتی گیس یا آر ایل این جی کی نوٹیفائیڈ شرحوں کے علاوہ لاگو ہوتی ہے، قانون کے مطابق حکام پر لازم ہے کہ وہ نیپرا کی جانب سے نوٹی فکیشن کردہ صنعتی بی تھری کیٹیگری کے بجلی کے نرخوں اور اوگرا کی جانب سے جاری کردہ گیس ٹیرف پر سی پی پیز کی سیلف پاور جنریشن لاگت کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے لیوی کی شرح کا تخمینہ لگائیں۔

اگر سی پی پی کی جانب سے لیوی کی رقم بروقت ادا نہیں کی جاتی تو یہ ذیلی دفعہ (2) کے تحت قابل وصول ہوگی، اور مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں ایجنٹ ڈیفالٹ شدہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی ختم کر دے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مشن یکم جولائی 2025 سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے اور ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کے علاوہ انفرادی اور مشترکہ طور پر صوبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے عام طور پر دسمبر 2024 کے آخر کے لیے زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے ہیں، اگرچہ ان میں سے کچھ تاخیر کا شکار ہوں گے لیکن پہلے 2 سالہ جائزے کا وقت دیکھتے ہوئے جون کے پہلے ہفتے میں اگلے سال کے بجٹ کے لیے پالیسی مذاکرات کا بڑا حصہ بھی آگے بڑھنے والی بات چیت کا حصہ بن رہا ہے۔

بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل جاری مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ورچوئل بات چیت کے دوران بھی آئی ایم ایف کی جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔

پالیسی سطح کی بات چیت میں گورننس اصلاحات کا بھی احاطہ کیا گیا، جس میں ٹیکس ریٹرن اپ لوڈ کرنے اور سرکاری افسران کے اثاثوں کے اعلانات کے لیے نیا پورٹل بنانا بھی شامل ہے۔

آئی ایم ایف مشن کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات جمعہ کو متوقع ہے۔

مشہور خبریں۔

جاپان اور برطانیہ کی یوکرین کو ایک ارب ڈالر کی امداد

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:یوکرین کی حکومت کو ملنے والی فوجی اور مالی امداد کے

مقبوضہ مسجد اقصیٰ کے خلاف قابضوں کی سرگرمیوں میں شدت

?️ 7 مئی 2026سچ خبریں: فلسطینی ذرائع نے مقبوضہ یروشلم میں صیہونی حکومت کی جانب

نیتن یاہو پر 2 دسمبر کو مقدمہ چلایا جائے گا

?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: مزاحمتی محاذ سے بھاری شکستوں کا سامنا کرنے والے صیہونی حکومت

کیا روس بشار الاسد کو الجولانی حکومت کے حوالے کر دے گا؟

?️ 6 مارچ 2025سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ روس

کابل میں دھماکہ؛طالبان کے اہم رہنما ہلاک

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شیخ رحیم اللہ اسکول میں ہونے

اسٹاک مارکیٹ 86 ہزار 444 پوائنٹس کی بلند سطح پر

?️ 16 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بینچ مارک کے ایس ای-100

پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی 11 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور

?️ 7 اگست 2025پشاور (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)

بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جارہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔ عطا تارڑ

?️ 16 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے