?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اہم اجلاس آج پھر اسلام آباد میں ہوگا جس میں انتخابات کے بعد کی صورتحال اور مخلوط حکومت کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
گزشتہ روز سی ای سی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا تھا کہ ’پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے رجوع کرے گی اور اس حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کی مذاکراتی کمیٹی آج تشکیل دی جائے گی جب کہ گزشتہ روز کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہونے والا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے دوبارہ شروع ہوگا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ اجلاس کے دوران ایگزیکٹو کمیٹی نے انتخابات کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے صحافیوں کو بتایا کہ تمام صوبوں میں انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اجلاس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ اتحاد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور آج پھر اس معاملے پر بات ہوگی۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ سی ای سی اجلاس صرف ایک نکتہ ہے کے مرکز میں آنے والی حکومت کا حصہ بننا یا نہیں۔
اندورونی ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی ممبران کی اکثریت نے رائے دی کہ معیشت سمیت متعدد چیلنجز کی وجہ سے پارٹی کو حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہیے، کمیٹی چاہتی ہے کہ پارٹی سندھ پر توجہ مرکوز کرے جہاں اسے حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل ہے، تاہم ذرائع نے اصرار کیا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی جماعت حکومت نہیں بنا سکتی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے وقت میں اقتدار لینا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا جب کہ ملک ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے، رہنما نے مزید کہا کہ میڈیا میں چلنے والے پاور شیئرنگ فارمولے سے متعلق اجلاس میں بات نہیں ہوئی۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پارٹی تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا چاہتی ہے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی صبح کچھ اور شام میں کچھ اور کہتے ہیں۔
اتوار کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے لاہور میں ملاقات کی جس میں مرکز میں حکومت سازی، مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے سفارشات کے تبادلے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) نے وزارت عظمیٰ کے بدلے صدرمملکت، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے دینے کی پیشکش کی تھی جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ (ن) سے کہا تھا کہ وہ اس پیشکش پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں غور کرنے کے بعد جواب دیں گے۔


مشہور خبریں۔
ججز کو ڈرانے کے لیے کیا کہا جا رہا ہے؟فواد چوہدری کی زبانی
?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ججز کو ڈرانے کے
جولائی
پاکستان کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی اسلحے کی تفصیلات شائع
?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:بھارتی اخبار اکنامک ٹائمزنے لکھا ہے کہ پاکستان نے یوکرین کو
فروری
سابق صیہونی وزیر جنگ بھی نیتن یاہو کے خلاف؛اہم بیان
?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ نے اس حکومت کے
جولائی
پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ کے تناظر میں عمران خان کو نظر بند کرنے کا منصوبہ تیار
?️ 7 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پی
اکتوبر
امریکی اور یورپی حمایت یوکرین کے بحران کو طول دے رہے ہیں:ترکی
?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:ترکی کے وزیر دفاع نے نے کہا کہ کیف کے لیے
دسمبر
سول سوسائٹی ارکان کا کشمیریوں کی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری پر اظہار تشویش
?️ 4 دسمبر 2024سری نگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر
دسمبر
غزہ میں اسرائیل کا مقامی مسلح و گوریلا گروپ بنانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا
?️ 8 دسمبر 2025 غزہ میں اسرائیل کا مقامی مسلح و گوریلا گروپ بنانے کا
دسمبر
پوٹین بھارت روانہ, واشنگٹن اور نئی دہلی کے تجارتی تعلقات میں پیچیدگی کے آثار
?️ 4 دسمبر 2025 پوٹین بھارت روانہ, واشنگٹن اور نئی دہلی کے تجارتی تعلقات میں
دسمبر