?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے 17ویں سپہ سالار کی کمان سنبھال لی ہے جہاں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں پاک فوج کی کمان ان کے سپرد کی۔
جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں منعقدہ پروقار تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل سید عاصم منیر نے یادگار شہدا پر حاضری دی۔
یادگار شہدا پر حاضری کے بعد پاک فوج کی مختلف رجمنٹس سے تعلق رکھنے والے دستوں نے پریڈ میں شرکت کی اور اس دوران قومی نغموں نے شرکا کے جوش و ولولے میں اضافہ کردیا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ساتھ ساتھ پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر بھی تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل عاصم منیر کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کیا۔
تقریب سے بطور آرمی چیف اپنے آخری خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج کے ساتھ عمر بھر کی رفاقت پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ جس نے مجھے فوج میں خدمت کا موقع دیا اور بامقصد زندگی عطا کی۔
انہوں نے جنرل عاصم منیر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ان کی پروموشن ملک اور فوج کے لیے کامیابیوں کا باعث بنے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر سے میری رفاقت 24 سال پرانی ہے، جنرل عاصم منیر حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ بہت پیشہ ور، باصلاحیت اور اعلیٰ اصولوں کے کاربند افسر ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں فوج کامیابی کے منازل عبور کرے گی اور ان کی تعیناتی فوج اور ملک کے لیے بہت مثبت ثابت ہو گی۔
آرمی چیف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں فوج ایک مایہ ناز اور قابل سپوت کے حوالے کر کے ریٹائر ہو رہا ہوں، آج سے 44سال قبل میرا فوجی سفر شروع ہوا تھا جو آج اختتام پذیر ہو رہا ہے، میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ناصرف اس بہادر اور عظیم فوج میں کام کرنے کا موقع دیا بلکہ اس مایہ ناز فوج کی کمان کا شرف بھی بخشا جو میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس چھ سالہ دور میں لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی ہو یا ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، امن و امان کے چیلنجز ہوں یا قدرتی آفات کا مقابلہ، اس فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا اور جہاں میں نے ان سے پسینہ مانگا، انہوں نے مجھے خون دیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ انہی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان آج امن کا گہوارہ ہے، ہماری سپہ کی قربانیوں کا اعتراف ہمارے دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں، مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو اتنے کم وسائل سیاچن کے بعرف پوش پہاڑوں سے لے کر تھر کے صحراؤں تک ملک کی جغرافیائی سرھدوں کی حفاظت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فوج لسانیت، رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے، مجھے وقت ہے کہ آنے والے وقت میں بھی یہ فوج جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت اور دفاع کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر میں اپنی 16بلوچ رجمنٹ کا بھی نہایت مشکور ہوں کیونکہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میرے یونٹ کا بھی کلیدی کردار رہا ہے ، میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں بھی عنقریب گمنامی میں چلا جاؤں گا لیکن میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج سے قائم رہے گا، جب فوج کو کامیابی حاصل ہو گی تو مجھے خوشی ہو گی لیکن جب فوج پر مشکل وقت آئے گا تو یہ یقین رکھیے گا کہ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔
آرمی چیف کے خطاب کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان جنرل سید عاصم منیر کو سونپ دی۔
تقریب میں تمام مسلح افواج کے سربراہان ،اعلیٰ سول، فوجی افسران کے ساتھ ساتھ وفاقی وزرا، سفارتکاروں اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ کمان کی چھڑی کو کمانڈ اسٹک بھی کہا جاتا ہے، آرمی کمان کی یہ چھڑی انگریزوں کے دور سے فوجی روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔
کمانڈ اسٹک ون اسٹار یعنی بریگیڈیئر کے عہدے کے افسران کو سونپی جاتی ہے، یہ اسٹک افسران کو پرانے افسران کی جانب سے دی جاتی ہے، پرانے افسران آنے والے نئے افسر کو یہ چھڑی سونپ کر خود نئی چھڑی تھامے نئے عہدے پر ترقی کر جاتے ہیں اور یہ سلسلہ آرمی چیف پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ چھ سال آرمی چیف رہنے کے بعد آج اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں، انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا۔
جنرل سید عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں، وہ منگلا میں آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ اس وقت سے چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجودہ کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر 10 کور تھے۔
بعد ازاں، انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا، تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے اصرار پر 8 ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کردیا گیا تھا۔
جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں اس عہدے پر وہ 2 سال تک فائز رہے تھے۔
اُردو نیوز کے مطابق سینئیر صحافی ماجد نظامی نے بتایا کہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو دو انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) کی قیادت کر چکے ، اس کے علاوہ وہ پہلے کوارٹر ماسٹر جنرل ہیں جنہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بننے سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے بھی پاس تھا۔
قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 ویں کور کی کمان کرنے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلیفورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔
پاک فوج کے سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جبکہ بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی بھی کی۔
انہوں نے 10ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دیں اور وہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے بھارت سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے، وہ ماضی میں انفینٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا تھا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحییٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
پی ٹی آئی کا پاور شیئرنگ سے انکار، مکمل مینڈیٹ ملنے تک مضبوط اپوزیشن کرنے کا اعلان
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر
فروری
استنبول مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے طالبان حکومت کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے
?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی اور طالبان کے وفود کے درمیان استنبول مذاکرات کی
اکتوبر
لبنانی جوانوں کا صیہونی رپورٹر کو انٹرویو دینے سے انکار
?️ 23 نومبر 2022سچ خبریں:گزشتہ موسم گرما میں منعقد ہونے والے مختلف بین الاقوامی مقابلوں
نومبر
وزیراعلی کے پی کی ایرانی قونصل خانے آمد، سپریم لیڈر کے انتقال پر تعزیت
?️ 6 مارچ 2026پشاور (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ایران کے
مارچ
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں، رانا ثناء اللہ
?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء
جولائی
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
?️ 22 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف انٹرا کورٹ
مارچ
افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار اور امریکہ کی مسلسل وعدے خلافیاں
?️ 10 مارچ 2021(سچ خبریں) افغانستان میں امن کے قیام کے لیئے پاکستان نے ہمیشہ
مارچ
تین مذہبی سیاسی جماعتوں کا یوم جمعہ دفاع وطن اور عزم کے طور پر منانے کا اعلان
?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ملک کی تین بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں نے
مئی