?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم، فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کل سماعت کے لیے مقرر کردیا۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ کل سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ 23 مئی کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کیس کی کازلسٹ جسٹس محسن اختر کیانی کی رخصت کے باعث منسوخ کردی گئی تھی۔
14 مئی کو سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں ہمیں انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے۔
واضح رہے کہ 6 مئی کو جسٹس بابر ستار نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انہیں نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں بتایا تھا، خط میں انہوں نے انکشاف کیا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔
28 اپریل کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اعلامیے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ، بچوں کی امریکی شہریت، امریکی جائیدادوں اور فیملی بزنس پر وضاحت دی تھی۔
اعلامیے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے آکسفورڈ لا کالج اور ہاورڈ لا کالج سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے امریکا میں پریکٹس کی اور 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں، جسٹس بابر ستار کی والدہ 1992 سے اسکول چلا رہی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کے پاس اس وقت پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں، جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا، جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستانی سکونت اختیار کی۔
اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کی پاکستان اور امریکا میں جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں موجود ہے۔
مزید کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے، سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کی خفیہ معلومات پوسٹ اور ری پوسٹ کی جا رہی ہیں، جسٹس بابر ستار، اُن کی اہلیہ اور بچوں کے سفری دستاویزات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف جسٹس کے خط کو درخواست میں تبدیل کر کے توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 6 ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت کی شکایت کی ہے۔


مشہور خبریں۔
ہمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں: ترکی
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:ترک وزیر خارجہ نے انطالیہ ڈپلومیٹک کونسل کے اجلاس میں بتایا
مارچ
کیا صیہونی رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟:برطانوی میگزین
?️ 28 اپریل 2024سچ خبریں: برطانوی میگزین ٹائمز نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام
اپریل
وزیراعلی بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کو تبدیل کرنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ سپیکر ایاز صادق
?️ 26 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا
نومبر
مودی سرکار کے شدت پسندانہ عزائم علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں: وزیر اعظم
?️ 10 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں مسلمانوں پر
جنوری
ایران کے بلاک شدہ فنڈز کے بارے میں امریکہ اور قطر کا اقدام
?️ 20 جون 2026سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور قطر ایک
جون
صیہونیوں اور داعش کی مشترکہ خصوصیت
?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:عراق میں الصدر دھڑے کے سربراہ نے مقتدیٰ الصدر نے رمضان
اپریل
فلسطینی مجاہدین کا قابض فوج کو خصوصی پیغام
?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں پیش قدمی کے بارے میں صہیونی
نومبر
بین الاقوامی تعلقات میں ایک قطبی نظام ماضی کا حصہ بن چکا ہے:پیوٹن
?️ 12 ستمبر 2026سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں
ستمبر