?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے مشاہدہ کیا کہ اپنی مدت پوری ہونے سے چند دن قبل تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی نے ملک میں جمہوریت تقریباً اتنی ہی کمزور چھوڑی، جتنی 25 جولائی 2018 کو حکومت منتخب ہونے کے وقت تھی۔
پلڈاٹ نے 15ویں قومی اسمبلی کی کارکردگی کے تجزیے میں متنازع بلوں جیسے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کی جلد بازی میں منظوری کا ذکر کیے بغیر کہا کہ قومی اسمبلی اور ہمارے منتخب نمائندوں نے پانچ سالہ دورِ حکومت میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا۔
15ویں قومی اسمبلی نے اپنے پانچ سالوں میں قانون سازی کے کل 279 مسودے منظور کیے جن میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی آئینی اسکیم کے بنیادی اصولوں کو مجروح کرنے والی شقوں کو جلد بازی میں منظور کیا گیا جن میں حالیہ قانون سازی بھی شامل ہیں، 15 ویں قومی اسمبلی میں 14 ویں قومی اسمبلی کے دوران منظور کیے گئے 192 قوانین کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
15 ویں قومی اسمبلی میں دو حکومتیں برسرِاقتدار آئیں، پہلی حکومت 18 اگست 2018ء سے 10 اپریل 2022ء تک رہی جس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان وزیر اعظم تھے جبکہ دوسری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اتحادی حکومت میں شہباز شریف وزیراعظم رہے اور ان کا دورِ اقتدار 11 اپریل 2022ء سے 9 اگست 2023ء تک جاری رہا۔
جہاں 14ویں قومی اسمبلی نے صرف 38 آرڈیننس پاس اور نافذ کیے گئے، وہیں 15ویں قومی اسمبلی کے منظور کیے گئے آرڈیننسز کی تعداد میں 97 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
15 ویں قومی اسمبلی نے 2002ء سے شروع ہونے والی پچھلی تینوں اسمبلیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ قوانین منظور کیے، اس قومی اسمبلی کے صرف آخری تین ہفتوں میں 73 بل منظور کیے گئے۔
ان 73 بلوں میں سے 36 یعنیٰ 49 فیصد بل متعلقہ کمیٹیوں کو نہیں بھیجے گئے۔
اپنی پانچ سالہ مدت میں 15ویں قومی اسمبلی کی صرف 452 اجلاس یعنیٰ سالانہ اوسطاً 90 اجلاس منعقد ہوئے۔
15 ویں قومی اسمبلی میں صرف 1245 گھنٹے کام ہوا، یعنیٰ اوسطاً سالانہ 249 گھنٹے کام ہوا، جو گزشتہ اسمبلی کے مقابلے میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے جس نے سالانہ اوسطاً 315 گھنٹے کام کیا تھا، واضح رہے کہ پانچ سالوں میں ہر کام کے گھنٹے کی اوسط لاگت 24 لاکھ 23 ہزار روپے فی گھنٹہ رہی۔
ملک میں 15 قانون سازی اسمبلیوں میں یہ اپنی مدت مکمل کرنے والی چوتھی قومی اسمبلی ہے۔
اس سے قبل جن اسمبلیوں نے اپنی 5 سالہ مدت مکمل کی وہ 2002ء، 2008ء اور 2013ء میں منتخب ہوئی تھیں، قومی اسمبلی میں اعتماد کا مظاہرہ اراکین کی حاضری سے ہوتا ہے۔
قائدِ ایوان یہ روایت قائم کرتے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کی صرف 11 فیصد اور وزیراعظم شہباز شریف کی اسمبلی اجلاسوں میں 17 فیصد حاضری نے ظاہر کیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
پِلڈاٹ تجزیہ بتاتا ہے کہ یکے بعد دیگرے برسرِاقتدار آنے والے وزرائے اعظم نے اُس ایوان کو کم اہمیت دی جو انہیں منتخب کرتا ہے، بحیثیت وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے 14 فیصد سے زائد اجلاسوں میں شرکت نہیں کی جبکہ شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے صرف 19 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔
پچھلے پانچ سالوں میں اراکینِ قومی اسمبلی کی اوسط حاضری 61 فیصد رہی حالانکہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی چھوڑنے کے فیصلے سے قبل یہ 67 فیصد تھی۔
قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود زیادہ حاضری کے باوجود، ایک اجلاس میں تقریباً 25 فیصد اراکین کی موجودگی کی وجہ سے اس میں کورم کی اکثر کمی پائی گئی۔


مشہور خبریں۔
محمود عباس نے تل ابیب میں شہادت کی کارروائی کی مذمت کی
?️ 6 مئی 2022سچ خبریں: فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے گزشتہ شب تل
مئی
اسرائیل کے لبنان پر ممکنہ زمینی حملے پر بیلجیم کا ردعمل
?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: بیلجیم کی حکومت نے اسرائیلی فوج کے لبنان پر ممکنہ
اکتوبر
یورپی ممالک کے لیے فلسطین کو تسلیم کرنا کیسا ہے؟ناروے کے سفارتکار
?️ 13 جون 2024سچ خبریں: ترکی میں ناروے کے سفیر آنڈریاس گارڈر نے انقرہ میں
جون
جیت گیا تو ترکی اور شام کے سفارت خانے دوبارہ کھول دیے جائیں گے: اردوغان کے حریف
?️ 30 اپریل 2023سچ خبریں:رجب طیب اردوغان کے مرکزی مخالف، کمال کلیدارو اوغلو نے ایک
اپریل
تحریک انصاف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف قرارداد منظور کرلی
?️ 30 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے
ستمبر
اسرائیل خطے کے ممالک کو کیوں اکساتا ہے ؟
?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایک بیان میں صیہونی
اکتوبر
باجوہ کے ’غیر جانبداری‘ کے وعدے کا اعتبار نہیں، سابق جنرل
?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ایک ریٹائرڈ جنرل نے سابق آرمی چیف کے فوج
مارچ
یورپ نے روس کے خوف سے امریکہ سے دوگنے ہتھیار خریدے
?️ 2 جنوری 2023سچ خبریں:مغربی ذرائع ابلاغ نے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا موقع ضائع
جنوری