?️
اسلام آباد(سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جماعت کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ثانی کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی نے جماعت کے موجودہ دستور کو منسوخ کر کے 2015ء کے دستور کو مناسب تبدیلیوں کے ساتھ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس دستور کو اختیار کرنے کا مقصد نچلی سطح پر جماعت کو مستحکم کرنا ہے، کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ جماعت میں 7 سطحوں کے بجائے صرف 5 سطحیں ہونی چاہئیں اور تحصیل کے بجائے صوبائی حلقے ہونے چاہئیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے اس کام کے لیے جماعت کے نئے نامزد سیکریٹری جنرل اسد عمر کی زیر صدارت ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنا کام منگل کے روز مکمل کرلیا ہے، اب اس کمیٹی کی رپورٹ چیئرمین عمران خان اور مرکزی کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔
فواد چوہدری خود بھی اس ذیلی کمیٹی کا حصہ تھے، انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے تجویز دی ہے کہ 2019ء کے دستور کو منسوخ کرکے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ 2015ء کے دستو کو دوبارہ اختیار کرلیا جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں تبدیلی کے ذریعے جماعت کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد صوبوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور بالآخر اگلے عام انتخابات کے لیے تیاری اور پارٹی کی تنظیم نو ہے۔
2013ء کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کا نیا تنظیمی ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا جس کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا کو 4 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، بعد ازاں 2019ء میں جماعت کی جانب سے منظور کیے گئے نئے آئین میں علاقوں کی بنیاد پر اسی ڈھانچے کو برقرار رکھا گیا اور سندھ اور بلوچستان کو بھی چار خطوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے جماعت کے چیئرمین کی حیثیت سے جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کردیا تھا اور جماعت کے دستور پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
وزیر اعظم نے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو جماعت کا نیا مرکزی جنرل سیکریٹری نامزد کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو وسطی پنجاب، وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار کو جنوبی پنجاب، وزیر دفاع پرویز خٹک کو خیبر پختونخوا، علی زیدی کو سندھ اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو بلوچستان کے لیے جماعت کا صدر نامزد کیا تھا۔
فواد چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ عمران خان نے پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عارضی طور پر یہ نامزدگیاں کی ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ یہ ’عبوری نظام‘ اس وقت تک کام کرتا رہے گا جب تک جماعت کا نیا آئین نہیں بن جاتا۔


مشہور خبریں۔
ترکی اور صیہونی ریاست کے تعلقات
?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:ایک صہیونی اخبار نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا
مارچ
بائیڈن نے خفیہ دستاویزات چین کے حوالے کی: ٹرمپ
?️ 12 جنوری 2023امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کے سابق دفتر
جنوری
صیہونی حکومت کو حیران کن جواب دیا جائے گا
?️ 30 اگست 2024سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیکریٹری جنرل نے خطے
اگست
سعودی عرب کا متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ فضائی مقابلے کا منصوبہ
?️ 3 جولائی 2021سچ خبریں:سعودی عرب امارات اور قطر ایئر ویز کے ساتھ مقابلہ کرنے
جولائی
ممنوعہ فنڈنگ کیس: بینکنگ کورٹ کا عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم
?️ 25 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بینکنگ کورٹ اسلام آباد نے
فروری
مغرب ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: علماء کی عالمی یونین
?️ 9 فروری 2026 سچ خبریں: عالمی اتحادِ علمائے مقاومت کے سربراہ شیخ حمود نے
فروری
ملائیشیا ہوواوی کے ساتھ الیکٹرانک تعاون سے دستبردار ہو گیا
?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: لائیشیا کے نائب وزیر مواصلات نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے
مئی
ٹرمپ اینڈ کمپنی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟
?️ 24 اگست 2023سچ خبریں: امریکی ریاست جارجیا میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج
اگست