بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کے نام سامنے آگئے

?️

لاہور: (سچ خبریں) بہاولنگر واقعےکی تحقیقات جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے ذرایعے جے آئی ٹی میں شامل افراد کے نام سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے بنائی گئی پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت صوبائی سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان جے آئی ٹی کے کنوینر مقرر کیےگئے ہیں، ان کے علاوہ کمشنر بہاولپور نادر چٹھہ اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ راجہ فیصل کو جے آئی ٹی کا ممبر مقرر کیا گیا ہے، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

ادھر اپنے ایک بیان میں آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ بہاول نگر میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو لے کر سوشل میڈیا پر ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ خدانخواستہ پاکستان آرمی اور پنجاب پولیس کے درمیان کوئی ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہو۔

 یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ اس سے کیا تاثر گیا اور اس تاثر سے دشمن کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ میں اس پر بات کروں گا اور میرا یہ اہم پیغام پوری پنجاب پولیس کے لیے ہے کیوں کہ اس کا تعلق پوری فورس کے مورال سے ہے اور یہ مورال اس عزم کی بنیاد ہے جس پر ہم چوروں، ڈاکوؤں اور رہزنوں سے لڑتے ہیں۔

عثمان انور نے کہا کہ ایک کالعدم تنظیم نے اپنے پیغام میں اس واقعے کو بنیاد بنا کر اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش کی، اس طرح کی ٹرولنگ دیگر شرپسند عناصر کی جانب سے بھی کی گئی، کچھ ویڈیوز کو سیاق و سباق کے بغیر بھی پیش کیا گیا، پرانی ویڈیوز بھی لگائی گئیں، غیرمصدقہ خبروں کا تانتا باندھ دیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب پولیس کے جوانوں میں مایوسی پھیلی، جان بوجھ کر کچھ دن کے انتظار کے بعد اس واقعے کے حوالے سے آپ سے بات کرنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا اور کیا اس میں پولیس مکمل طور پر ٹھیک تھی یا ہم سے بھی کوئی غلطی ہوئی۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ اسپیشل انیشیٹیو پولیس اسٹیشنز کے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث یہ واقعہ پیش آیا، واقعے کے بعد آر پی او بہاولپور اور فوج کی مقامی کمان نے علاقے کا دورہ کیا اور دونوں اداروں کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جہاں معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا گیا، اجلاس میں پاک فوج زندہ باد اور پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے گئے تاکہ یہ تاثر دور کردیا جائے کہ دونوں اداروں میں کوئی ٹکراؤ ہے، انفرادی غلطی درست کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، دونوں ادارے اپنے اپنے محکمہ جاتی ایکشنز کا آغاز کرچکے ہیں، جہاں جو غلط ہوگا، قانون توڑا گیا ہوگا یا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جاسکیں، اس واقعے کو اس طرح اٹھایا گیا جس سے پولیس اور فوج کے درمیان فیملی جیسے رشتے کو توڑنے کی کوشش کی گئی، اس تعلق کو کوئی نہیں توڑ سکتا، تمام ادارے اس ملک کی سالمیت کے لیے مل کر جدوجہد کرتے رہیں گے، ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پنجاب پولیس اور تمام وردی والے اکٹھے مل کر دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیں گے اور پاکستان کو محفوظ بنائیں گے، عوام پر ذمہ داری ہے کہ پروپیگنڈے کا مزید شکار نہ ہوں۔

مشہور خبریں۔

اپنی چھت اپنا گھر پروگرام؛ 7 ماہ میں 50 ہزار بلا سود قرضے فراہم

?️ 26 جون 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ الحمد

امریکی صدارتی امیدواروں کے صیہونی لابی کے تلوے چاٹنے شروع

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نے صیہونی لابی کی حمایت

دوسری شادی کا فیصلہ مشکل ترین لیکن آسان تھا، ماہرہ خان

?️ 4 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) حال ہی میں دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھنے

برطانیہ بھر میں ڈاک، یونیورسٹی اساتذہ اور کے عملے کی ہڑتال

?️ 26 نومبر 2022سچ خبریں:برطانیہ بھر میں پوسٹل ورکرز، اساتذہ اور یونیورسٹی کے عملے نے

ہر روز جنگ میں مرنے والے بچوں کی تعداد 300 سے زائد

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں: الصحفہ العالمیہ نیوز ایجنسی کے ذریعہ القاباتی کے حوالے سے بتایا

نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے خلاف 160 ہزار صہیونیوں کا مظاہرہ

?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے مسلسل نویں ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن

مونس الہٰی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ کالعدم قرار دینے کےخلاف اپیل، ایف آئی اے سے ریکارڈ طلب

?️ 15 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر اور سابق

اسرائیل کے ایران پر حملے میں امریکہ کا عمل دخل تھا: امریکی تجزیہ کار

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: امریکی سیاسی تجزیہ کار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے