?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک پاکستانی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادار اے ایف پی کو ہفتے کے روز بتایا کہ رائٹس ایکٹوسٹ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بلوچستان میں ایک احتجاجی دھرنے کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس دھرنے کے تین مظاہرین ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
ایک سینیئر پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ان (ماہ رنگ) کو17 دیگر مظاہرین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں 10 مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف کن دفعات کے تحت کیس فائل کیا جائے۔‘‘
ماہ رنگ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے نمایاں ایکٹوسٹس میں سے ایک ہیں اور لمبے عرصے سے بلوچوں کے حقوق کے لیے مہم چالا رہی ہیں۔
بلوچ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انہیں ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جمعے کے روز ماہ رنگ ان مظاہرین میں شامل تھیں جو بلوچستان یونیورسٹی کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مبینہ طور پر سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے حراست میں لیے گئے ان کے ساتھی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
بعد ازاں، بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو متعدد دیگر مظاہرین سمیت ”ریاستی سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے علی الصبح ایک ظالمانہ کریک ڈاؤن‘‘ کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان کے مطابق اس دوران کم از کم تین مظاہرین ہلاک ہوئے، جس کا الزام دونوں فریقین ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق پر کام کرنے والے پاکستانی ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا، ”حکام پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کریں اور انہیں رہا کریں۔
پاکستان میں وفاقی حکومت کا موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں علحیدگی پسند عسکریت پسندوں کے خلاف ہی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جو صوبے میں سکیورٹی فورسز اور غیر ملکی افراد کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ کو پچھلے سال ٹائم میگزین کی سو ”ابھرتے ہوئے لیڈران‘‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے منعقد کی جانے والی ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان میں انہیں امریکہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
بلوچ نے بطور ایکٹوسٹ اپنے کریئر کی شروعات 16 سال کی عمر میں 2009ء میں اپنے والد کے گمشدہ ہو جانے کے بعد کی تھی۔ ان کے والد کو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کے دو سال بعد ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔


مشہور خبریں۔
وعدہ خلافی امریکہ کی ہمیشگی عادت
?️ 8 فروری 2022سچ خبریں:امریکی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس
فروری
نیتن یاہو کی جنگ ایک شیطانی جنگ ہے: حماس
?️ 12 مئی 2024سچ خبریں: عزت الرشق نے مزید کہا کہ نیتن یاہو اور ان کی
مئی
پنجاب حکومت نے اہم ہدف حاصل کر لیا
?️ 24 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے الحمرا
دسمبر
ٹرمپ کے ایران کے خلاف دھمکی آمیز لہجے میں نرمی
?️ 21 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران اور
مارچ
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرمین بن گئے
?️ 5 جولائی 2023کراچی: (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی جانب سے کراچی
جولائی
دشمن سجمھوتے کے پیچھے رہے اور ہم نے کیا کیا؛فلسطینی کمانڈر کا انکشاف
?️ 5 اکتوبر 2023سچ خبریں: جہاد اسلامی تحریک کی عسکری ونگ کے کمانڈر نے غزہ
اکتوبر
پورے فلسطین میں مقاومت ہی فتح اور آزادی کا واحد راستہ ہے
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے بئر السبع میں شہادتوں کی
مارچ
صیہونیوں کی حمایت میں آنکھوں پر پٹی
?️ 21 مارچ 2024سچ خبریں: انگلستان کے وزیراعظم نے صیہونی حکومت کے جرائم کی کھل
مارچ