بلوچستان: سوئی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک، 3 جوان شہید

?️

بلوچستان 🙁سچ خبریں) بلوچستان کے علاقے سوئی میں فوجی آپریشنز کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 2 دہشتگرد بھی مارے گئے۔

قبل ازیں، ژوب گیریژن میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں 9 فوجی جوان شہید اور جوابی کارروائی میں 5 دہشت مارے گئے تھے۔

رواں برس دہشت گرد حملوں میں فوجی جوانوں کی ایک دن میں ہونے والی شہادتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے، اس سے قبل فروری 2022 میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں ’فائر ریڈ‘ میں 10 اہلکار شہید ہوئے تھے۔

گزشتہ شب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سوئی کے علاقے میں آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 بہادر سپاہیوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا جبکہ آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

قبل ازیں، ژوب گیریژن میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں 9 فوجی جوان شہید اور جوابی کارروائی میں 5 دہشت مارے گئے، دہشتگردوں نے ژوب گیریژن میں گھسنے کی کوشش کی تھی جہاں ڈیوٹی پر موجود فوجیوں نے انہیں روکا۔

آئی ایس پی آر کے ابتدائی بیان کے مطابق فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 فوجی جوان شہید ہوئے تھے اور 3 دہشتگرد مارے گئے تھے جس کے بعد کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔

بعدازاں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ژوب کینٹ میں سیکیورٹی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 5 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قوم دشمن کی ایسی تمام مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں جس کا مقصد بلوچستان اور پاکستان کا امن تباہ کرنا ہے۔

ژوب کمشنر سعید احمد عمرانی نے کہا تھا کہ بھاری خودکار ہتھیاروں سے لیس 5 دہشت گرد حملے میں ملوث تھے، جھڑپ میں سیکیورٹی فورسز کو بھی جانی نقصان پہنچا جو دوپہر تک جاری رہی۔

انہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد ژوب قصبہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیا۔

ڈپٹی کمشنر عظیم اللہ کاکڑ نے سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک خاتون کی ہلاکت اور 5 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان سے آنے والے ایک بس ژوب چھاؤنی کے علاقے سے گزر رہی تھی کہ وہ فائرنگ کی زد میں آ گئی، زخمیوں کو ابتدائی علاج کے بعد سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

ژوب گیریژن پر حملے کی ذمہ داری خود کو تحریک جہاد پاکستان (ٹی جے پی) کہنے والی ایک کالعدم تنظیم نے قبول کرلی ہے، یاد رہے کہ اسی گروپ نے قلعہ عبداللہ کے علاقے مسلم باغ میں ایف سی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور ساتھ ہی چند ماہ قبل سبی کے قریب کوئٹہ-سکھر ہائی وے پر ایک پولیس ٹرک کو نشانہ بنایا تھا۔

ژوب میں سیکیورٹی فورسز پر یہ دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل 2 جولائی کو عسکریت پسندوں نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں ژوب-ڈیرہ اسمعٰیل خان شاہراہ پر پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کور کی 3 چوکیوں پر حملہ کیا تھا، واقعے میں 3 پولیس اہلکار اور ایک ایف سی اہلکار شہید جبکہ ایک حملہ آور مارا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

میں ایک صیہونی اور اسرائیل کی زبردست حامی ہوں:برطانوی وزیر اعظم

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:انگلستان کی وزیر اعظم نے اس ملک کی پارلیمنٹ کے یہودی

اسپیکر سے ملاقات، پی ٹی آئی وفد اجتماعی استعفوں کی منظوری پر مُصر

?️ 29 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے

بھارت کو ذلت آمیز شکست، پاکستان نے دفاعی طاقت کا توازن بحال کردیا۔ تھنک ٹینک رپورٹ

?️ 24 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ نے ایک مفصل رپورٹ جاری

صیہونی کنسٹ اراکین کا شمالی غزہ کے تمام بنیادی وسائل تباہ کرنے کا مطالبہ

?️ 4 جنوری 2025سچ خبریں:صیہونی پارلیمنٹ (کنسٹ) اراکین نے شمالی غزہ کے پانی، خوراک اور

صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کی فتح کا بنیادی عنصر میدانوں کا اتحاد

?️ 21 مئی 2023سچ خبریں:آج ہم مقبوضہ فلسطین میں بہادرانہ کارروائیوں اور صیہونی حکومت کے

شمالی غزہ کے کتنے شہری اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں؟

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:فلسطینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 80 فیصد بے گھر

فلسطینی خاتون کی 24 سال بعد اپنے اہل خانہ سے مظلومانہ ملاقات

?️ 17 جون 2021سچ خبریں:سناء محمد نامی ایک 47 سالہ فلسطینی خاتون جنہیں 24 سال

صیہونیوں نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی جیل میں کورونا وائرس پھیلایا ہے:جہاد اسلامی

?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کےایک رکن نے اپنے بیان میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے