?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی اور سیاسی بحران میں فوجی آمریت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے تمام طریقہ کار موجود ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مذاکرات کا آغاز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فوج نے بہت کم سنگین حالات میں مداخلت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سسٹم ناکام ہوجائے یا اداروں میں تصادم ہو اور سیاسی قیادت اس سے باہر آنے کا راستہ نہ نکال سکے تو ایسی صورتحال میں ہمیشہ مارشل لا کا امکان رہتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب کوئی وزیراعظم بن جائے تو کسی پر اعتماد نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پھر ملک کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے میں نے سبق سیکھا ہے کہ کسی پر بھی آنکھیں بند کرکے اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ترقی لانے کے لیے قانون کی حکمرانی کا قیام لازم ہے جس کے لیے طاقت کی ضرورت ہے لیکن طاقت باجوہ کے پاس تھی، ذمہ داری میرے پاس تھی جس کا قانون کی حکمرانی سے کوئی مفاد نہیں تھا۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت تھی جو کہ بہت کمزور تھی، میں نے سمجھا کہ باجوہ سے زیادہ سچا کوئی نہیں ہے اور میں نے کبھی بھی غور نہیں کیا کہ باجوہ اور میرے مقاصد الگ الگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ جو دو خاندان ملک سے پیسا چوری کرکے جارہے ہیں باجوہ بھی ان کو اتنا ہی بُرا سمجھتا ہوگا جتنا میں، لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ ان کے ساتھ ہی ملا ہوا تھا اور شہباز شریف کو بھی وہ ہی لایا تھا جو چوری کو برا نہیں سمجھتا تھا۔
شاہد خاقان عباسی نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے حالات میں پاکستان بہت ہی طویل مارشل لا ادوار میں رہا ہے، درحقیقت میں یہ کہوں گا کہ پاکستان نے اس سے قبل اتنے سنگین معاشی اور سیاسی حالات کا سامنا نہیں کیا اور بہت کم سنگین حالات میں فوج نے اقتدار پر کنٹرول کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاشرے اور اداروں کے اندر تناؤ مزید بڑھا تو انارکی پیدا ہوگی اور ایسی صورت حال میں فوج کی طرف سے بھی قدم بڑھایا جاسکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
وزیراعظم جمعرات کو فرانس کے 2 روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
?️ 20 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی
جون
کیا یورپی ایڈیشن یوکرین امن منصوبے کا تعظل توڑ پائے گا؟
?️ 25 نومبر 2025 کیا یورپی ایڈیشن یوکرین امن منصوبے کا تعظل توڑ پائے گا؟
نومبر
امریکہ اور یورپ نے2023 میں کیا پایا؟
?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں: پچھلے سال کی عالمی صورتحال کا سرسری جائزہ بتاتا ہے
جنوری
کتنے صیہونی غزہ جنگ میں اسرائیل کو کامیاب مانتے ہیں؟
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں:تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق، اسرائیلی عوام کی اکثریت
فروری
ایران کا مصر کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر آمادگی کا اعلان
?️ 6 جون 2023سچ خبریں:مصر میں عمان کے سفیر نے کہا کہ ایران مصر کے
جون
غزہ میڈیا آفس نے لاکھوں فلسطینیوں کو بھوک سے مرنے کے جاری جرائم کے خلاف خبردار کیا ہے
?️ 21 مئی 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا کے دفتر نے ایک
مئی
مصر پاکستان کا برادر ملک، دوطرفہ تعاون سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ فیلڈمارشل سید عاصم منیر
?️ 23 اکتوبر 2025راولپنڈی(سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مصر کا سرکاری دورہ
اکتوبر
صیہونی حکومت کو مستقبل قریب میں بہت سی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا:جہاد اسلامی
?️ 24 اپریل 2023سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن نے
اپریل