?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو 6 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملنے کی دعوت دی ہے۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر تحریک انصاف کی نمائندگی کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو 6 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملنے کی دعوت دی ہے۔
اس سے قبل آج صبح چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت کی تجویز پر ملک میں جاری سیاسی جمود توڑنے کے لیے مذاکراتی کی کوششیں شروع کردیں اور اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دینے کے لیے سینیٹ میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو الگ الگ خطوط لکھے۔
صادق سنجرانی نے اپنے خطوط میں کہا ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال میں سیاسی جماعتوں میں رابطے کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت ایوان بالا کے چیئرمین حکومت اور اس کے اتحادیوں نے معاشی اور سیاسی بحران بشمول عام انتخابات کے انعقاد پر سیاسی مذاکرات کے آغاز کے لیے سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے مجھ سے رابطہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن اراکین سینیٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پہلے تین رکنی اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، حکومت سے معنی خیز مذاکرت کے لیے شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر کا نام تجویز کیا، کمیٹی آئینی دائرہ کار میں رہ کر اور سپریم کورٹ احکامات کے عین مطابق مذکرات کرےگی۔
خط میں مزید کہا گیا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے تین رکنی کمیٹی سے آگاہ کیا جائے، حکومت عام انتخابات سے متعلق تجاویز سپریم کورٹ کے سامنے رکھے اور عام انتخابات کو تاخیر کا شکار نہ کرے۔
خیال رہے کہ 20 اپریل کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ 26 اپریل تک مذاکرات کریں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد 27 اپریل (آج) تک جواب جمع کروائیں۔
سیاسی جماعتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے پر جلد فیصلہ کریں کیونکہ انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ دی جاچکی ہے اور اس کی پابندی کا حکم تمام حکام پر لازم ہے۔
تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی مذاکرات نہ ہوسکے اور حکومت نے بھی عدالت کی جانب سے 4 اپریل کو جاری کردہ ہدایت کی تعمیل سے انکار کر دیا ہے، لہٰذا اب تمام نظریں عدالت کے اگلے اقدام پر جمی ہوئی ہیں۔
گزشتہ سماعت کے بعد جاری تحریری حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ 26 اپریل کو سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک اجلاس ہوگا، 27 اپریل تک سیاسی رابطوں اور ڈائیلاگ کی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائے گی۔
آج دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو خود اقدام اٹھاتی، مذاکرات کرنے پر عدالت مجبور نہیں کر سکتی، عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تاکہ تنازع کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیے، صرف حل بتائیں، چیئرمین سینیٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا۔
اس دوران پیپلزپارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، سینیٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے۔
فاروق نائیک نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے، مذاکرات سیاسی جماعتوں کی کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیں، سیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے، سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے۔


مشہور خبریں۔
افغانستان کے فاریاب صوبے کے ایک علاقہ پر طالبان کا قبضہ
?️ 8 جون 2021سچ خبریں:افغانستان کےایک مقامی عہدیدار نے اطلاع دی ہے کہ طالبان نے
جون
صہیونی فوج میں کشیدگی؛ غزہ کی جنگ سے لے کر بیرکوں میں خودکشی تک
?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: حکومت کی فوج کی ہلاکتوں کی رپورٹوں میں بتایا گیا
جولائی
ممکنہ خطرات کے پیش نظر اڈیالہ جیل کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی
?️ 28 نومبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل
نومبر
الیکشن ملتوی کروانے کی ایک اور قرارداد سینیٹ میں جمع
?️ 14 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی
جنوری
پشاور ہائی کورٹ نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر کالعدم قرار دے دی
?️ 7 نومبر 2022پشاور:(سچی خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے
نومبر
ایران کے ساتھ جنگ میں صہیونی خوابوں کا جلد خاتمہ
?️ 30 جون 2025سچ خبریں: صیہونیوں نے جو ابتدا میں نیتن یاہو کی طرف سے
جون
امریکی وعدہ خلافیوں کی تاریخ
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:امریکی ویب سائٹ نے امریکی خلاف ورزیوں کی تاریخ کا حوالہ
جنوری
صیہونی حکومت لبنان کے عوام کو کیوں مار رہی ہے؟لبنانی پارلیمنٹ ممبر کا بیان
?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں:لبنانی رکن اسمبلی نے صہیونی ریاست کو انتباہ دیتے ہوئے کہا
اکتوبر