ایل پی جی کی کھیپ موصول ہونے کے حوالے سے پاکستان حقائق کی جانچ کر رہا ہے، وزارت توانائی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزارت توانائی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے پاکستان کو پہلی مائع پیٹرولیم گیس(ایل پی جی) کی ترسیل کے حوالے سے ٹوئٹ کے بعد پاکستان حقائق کی جانچ کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز روسی سفارت خانے نے منگل کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ ایک لاکھ ٹن ایل پی جی ایران کے سرخس اسپیشل اکنامک زون کے ذریعے پاکستان پہنچی ہے اور دوسری کھیپ پر مشاورت جاری ہے۔

توانائی کی درآمدات پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کا زیادہ تر حصہ بنتی ہیں اور روس سے رعایتی ایندھن اس سلسلے میں پاکستان کے لیے معاون ثابت ہو گا کیونکہ اسلام آباد کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں توازن کے مسئلے کا سامنا ہے اور بیرونی قرضوں کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ ہے۔

اس سال کے اوائل میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان کو روسی خام تیل کی پہلی کھیپ موصول ہوئی تھی۔

جنوری 2023 میں روس کا ایک وفد اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچا تھا، تین روز تک جاری رہنے والے گفت شنید کے دوران دونوں ملکوں نے اس سال مارچ کے آخر تک ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تمام تکنیکی مسائل جیسے انشورنس، نقل و حمل اور ادائیگی کے طریقہ کار کو حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دونوں فریقوں کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ منظور شدہ تکنیکی وضاحتوں پر اتفاق رائے کے بعد تیل اور گیس کے تجارتی لین دین کو اس طرح شکل دی جائے گی کہ اس سے دونوں ممالک کا اقتصادی فائدہ ہو۔

رائٹرز کو دیے گئے بیان میں وزارت توانائی نے کہا کہ نجی اداروں کی جانب سے زمینی راستے سے ایران سے درآمد کی جانے والی ایل پی جی روسی نژاد ہو سکتی ہے، حکومت خود ایندھن درآمد نہیں کرتی ہے۔

روسی سفارت خانے نے تبصرے کے لیے ای میل کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مارکیٹ، صنعت اور سرکاری ذرائع نے کھیپ کے حجم پر سوال اٹھایا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی اتنی مقدار سڑک کے ذریعے پہنچنے کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے اور اسے لے جانے کے لیے تقریباً 4ہزار کنٹینرز کی ضرورت ہو گی۔

ماسکو میں ایک صنعتی ذرائع نے بتایا کہ بنیادی طور پر گیز پروم کی زیر ملکیت 5ہزار ٹن ایل پی جی فروری اور اپریل کے درمیان روسی پلانٹس سے سرخس کو فراہم کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ان 5ہزار ٹن کا کون سا حصہ سرخس سے پاکستان پہنچایا گیا ہے۔

اس معاہدے کے وقت ماسکو نے کہا تھا کہ پاکستان کو ایل پی جی کی خریداری روسی نجی شعبے کے ذریعے کرنی ہو گی۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے روسی خام تیل کی قیمت کی ادائیگی چینی کرنسی میں کی تھی لیکن اس معاہدے کی قیمت کبھی ظاہر نہیں کی گئی۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟

?️ 11 مئی 2025سچ خبریں: امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو نے آج (ہفتہ) مشرق وسطیٰ

یکم اگست سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

?️ 30 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ملک میں یکم اگست سے پیٹرولیم مصنوعات کی

مئی 2023 کے بعد سے ہفتہ وار مہنگائی 44.64 فیصد کی بُلند ترین سطح پر

?️ 19 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قلیل مدتی مہنگائی مئی 2023 کے بعد سے

سینیٹ میں بھی اپوزیشن کو شکست کا سامنا

?️ 19 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشترکہ اجلاس کے بعد سینیٹ میں بھی اپوزیشن

بن سلمان نیتن یاہو کے الیکشن ہارنے سے پریشان ہیں:صہیونی چینل

?️ 4 مارچ 2021سچ خبریں:تل ابیب اور ریاض کے مابین تعلقات کے منظر عام پر

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف اور  ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہ سے ملاقات

?️ 30 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ چین کے دوران اپنے

غزہ کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی کے اثرات، صہیونی فوج میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے

?️ 25 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیل کی جانب سے 11 دن تک جاری

21 ملین سے زائد زائرین کی کربلا میں موجودگی

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:روضہ حضرت عباس کی انتظامیہ نے کربلا میں داخل ہونے والے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے