ایف بی آر نے انفارمیشن سینٹر 2.0 کے پلیٹ فارم سے ایڈوانس اسٹاک رجسٹر سسٹم لانچ کردیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں کے تسلسل میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بنانے اور محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر کی ہدایت پر انفارمیشن سینٹر 2.0 پلیٹ فارم سے ایڈوانس اسٹاک رجسٹر سسٹم لانچ کردیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر ٹیکس افسران کو رئیل ٹائم میں رجسٹرڈ افراد کے ڈیٹا تک مکمل رسائی فراہم کرتا ہے جس سے شفافیت بڑھے گی اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

انفارمیشن سنٹر2.0 میں دستیاب اسٹاک رجسٹر ایک جدید مینجمنٹ انفارمیشن اور رپورٹنگ سسٹم کے طور پر کام کرے گا جس سے ٹیکس افسران آسانی سے تفصیلی اسٹاک ڈیٹا حاصل کر سکیں گے تاکہ ٹیکس کا درست تخمینہ لگا کر ٹیکس چوری کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

اس سسٹم کے تحت ٹیکس دہندگان کی پروفائلز کو یکجا کردیا گیا ہے جس میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے جمع کرائے گئے گوشواروں کی تاریخ، خلاصے اور مجاز نمائندوں کی پروفائلز بھی شامل ہوں گے۔

انفارمیشن سنٹر 2.0 پلیٹ فارم کے ذریعے مربوط رسائی سے ٹیکس اور ڈیکلیریشن کا موازنہ ہو سکے گا جس سے جامع نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، اس سسٹم سے اسٹاک کی نقل وحمل مثلاً مقدار، قیمتیں اورلین دین کی تاریخیں تفصیلی طور پر ریکارڈ کرنے میں مدد ملے گی جس سے ٹیکس افسران کو قوانین پر عمل درآمد کرانے اور درست اسٹاک اور کمپلائنس رپورٹس مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔

انفارمیشن سنٹر 2.0 پورٹل سے ایف بی آر کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس سے قومی معیشت کو تقویت ملے گی۔

یہ پلیٹ فارم مختلف ڈیٹا سٹریمز کو یکجا کرے گا جن میں سیلز ٹیکس کے ضمیمہ جات، کسٹمز کی درآمدات کی تفصیلات، ٹیکس دہندگان کی بطور ودہولڈیز اور ود ہولڈنگ ایجنٹس رپورٹس شامل ہوں گی جس سے ٹیکس کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر اور جامع فریم ورک قائم ہو گا۔

اس سسٹم تک رسائی IRIS پر صرف ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز کے ٹیکس افسران کو دستیاب ہو گی، سسٹم میں جدید فلٹر اور سرچ فنکشنیلٹیز شامل ہیں جن کے ذریعے درست تخمینہ اور کمپلائنس میں مدد دینے کے لیے ڈیٹا کی تیز ترین دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

ایف بی آر کوجدید ترین بنانے کے عزم سے ہم آہنگ یہ اقدام محصولات جمع کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ریونیو جنریشن میں اضافہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے مابین توازن قائم ہو سکے گا۔

سسٹم کے تحت مؤثر رپورٹنگ کو فروغ ملے گا، ٹیکس چوری میں کمی واقع ہوگی اور کاروباری لینڈسکیپ میں فنانشل مینجمنٹ مضبوط ہوگی جس سے ایک مرکزی اور شفاف ڈیٹا ایکو سسٹم کے ذریعے ٹیکس قوانین کی پیروی یقینی بنائی جا سکے گی۔

مشہور خبریں۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

?️ 21 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں پبلک

نیٹسریم ہارے ہوئے گھوڑے پر جوا کیوں کھیل رہا ہے؟!

?️ 30 اگست 2024سچ خبریں: لبنانی ویب سائٹ الاخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی

زلنسکی ہر بار کتنے ڈالر لے جاتے ہیں؟ ٹرمپ کی زبانی

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے سابق صدر اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں

عالمی برادری اعتراف کرے بھارت ایک ہندوتوا انتہاپسند ریاست بن چکا، بلاول بھٹو

?️ 19 ستمبر 2023 اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس10مارچ کو طلب، صدر نے حکومت سے کارکردگی کی رپورٹ مانگ لی

?️ 1 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ

او آئی سی اجلاس: ایک فون آیا اور اپوزیشن ڈھیر: شیخ رشید

?️ 20 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)او آئی سی اجلاس سے متعلق اپوزیشن کے دھمکی آمیز

ارکان پارلیمنٹ نے عمران خان کی رہائی کیلئے امریکی کانگریس کا خط ملکی معاملات میں مداخلت قرار دیدیا

?️ 31 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی کانگریس کے 62 اراکین کی جانب سے

حکومت کا 2002 سے توشہ خانہ تحائف خریدنے والوں کا ریکارڈ ویب سائٹ پر ڈالنے کا فیصلہ

?️ 23 فروری 2023لاہور:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں 1947 سے اب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے