?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین کے لیے آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومتی سینیٹرز سے رجوع کیا جارہا ہےدوسری طرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے اپنے اُمیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تحریک انصاف نے خود کو بہتر سودے بازی کی پوزیشن پر رکھتے ہوئے اپنی اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت کو یقینی بنانے کے لیے یہ جگہ خالی رکھی ہے۔
اپنے ترجمانوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایوان بالا میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود چیئرمین کے عہدے پر کامیابی کے عزم کا اظہار کیا۔
3 مارچ کے انتخابات کے بعد ایوان بالا میں حکومت اس کے اتحادیوں اور پانچ آزاد سینیٹرز کی مشترکہ قوت 48 جبکہ اپوزیشن کے 51 سینیٹرز ہیں۔
وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ عمران خان نے اس وقت سینیٹ کے چیئرمین کے انتخابات کو ملک کا ایک انتہائی اہم سیاسی مرحلہ قرار دیا ہے۔
تاہم وزیر اعظم کو اعتماد ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی 12 مارچ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سابق وزیر اعظم اور منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو شکست دے دیں گے۔
دریں اثنا پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے پاس ایک اور درخواست دائر کردی جس میں یوسف رضا گیلانی کو ‘پیسے کے ذریعے الیکشن جیتنے’ کے الزام میں سینیٹر منتخب ہونے پر نا اہل قرار دینے کی درخواست کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ ‘یوسف رضا گیلانی جنہوں نے سینیٹر بننے کا راستہ خریدا، اگر ای سی پی نے ان کے خلاف بروقت کارروائی کی تو وہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے’۔
ایک نجی ٹی وی چینل میں ایک ٹاک شو میں گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے تاہم انہوں نے کہا کہ فرق بہت کم ہے جس کی وجہ سے حکومت کو سینیٹ کے چیئرمین کی نشست پر جیت کا اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی نے متوازن انداز میں ایوان چلایا تھا اور ہر ممبر کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات تھے۔
شبلی فراز نے کہا کہ اگر 12 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں کوئی پریشانی ہوئی تو اس کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد ہوگی کیونکہ اس نے کھلی رائے شماری کے ذریعے حال ہی میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کے انعقاد کے حکومتی اقدام کی حمایت نہیں کی تھی۔
ایک اور ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ترجمانوں کو آگاہ کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو کس حکمران اتحاد کے ایم این اے نے ووٹ دیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر اعظم کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل منیجر عمران غزالی نے ملاقات کی۔ملاقات میں شبلی فراز نے وزیر اعظم کو ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزنگ پالیسی سے آگاہ کیا جسے وزارت اطلاعات نے تجویز کیا تھا۔
وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت انٹرنیٹ کے 9 کروڑ 30 لاکھ استعمال کنندہ ہیں جن میں پاکستان میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا صارفین شامل ہیں۔
واضح رہے کہ بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا پر پبلک سیکٹر کے اشتہارات جاری کرنے کے لیے ایک طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔انہیں بتایا گیا کہ فی الحال وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
یہ پاکستانی حکومت کی تشکیل کردہ پہلی پہلی پالیسی ہوگی جو اسے وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اشتہار دینے کے قابل بنائے گی۔


مشہور خبریں۔
فردوس نقوی نےاسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا
?️ 29 جون 2021کراچی(سچ خبریں) پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے اپنی اسمبلی
جون
ایک بھولی بسری جنگ
?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:جنین بھولی ہوئی لڑائیوں کی علامت ہے،جنین یا کسی بھی بھولی
جولائی
سعودی عرب کا حج کے لیے اہم شرائط کا اعلان
?️ 7 جون 2023سچ خبریں:سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے حج کرنے کی
جون
ٹرمپ کا امریکہ میں مہنگائی سے انکار
?️ 27 اگست 2025ٹرمپ کا امریکہ میں مہنگائی سے انکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
اگست
پی ٹی آئی میں ایک فیکٹر خود مائنس ون کررہا ہے۔ فیصل واوڈا
?️ 9 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینئر سیاستدان فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ
دسمبر
کوریائی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر پیانگ یانگ میں امریکہ مخالف مظاہرے
?️ 27 جون 2024سچ خبریں: 1950 کی کوریائی جنگ کے آغاز کی 74 ویں سالگرہ کے
جون
راکٹ حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، دشمن بہانے تراش رہا ہے:حزب اللہ
?️ 23 مارچ 2025 سچ خبریں:حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی
مارچ
نواز شریف، آصف زرداری، یوسف گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس، نیب سے 4 جنوری تک رپورٹ طلب
?️ 20 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر مملکت
دسمبر