اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کم ہوکر ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہ گیا

?️

کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکسان نے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ اپریل میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے لیے مجموعی اضافی رقم ایک ارب 88 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اپریل میں دیکھا گیا اضافہ مارچ میں ریکارڈ کیے گئے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اور پچھلے سال اپریل کے مقابلے میں 31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے کافی کم رہا، لیکن کرنٹ اکاؤنٹ مثبت زون میں رہا۔

مالی سال 25-2024 میں جولائی تا اپریل، کرنٹ اکاؤنٹ نے ایک ارب 88 کروڑ ڈالر ڈالر کا خالص اضافہ ظاہر کیا تھا، جو پچھلے سال اسی مدت کے دوران ایک ارب 33 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے خسارے کی نسبت اہم تبدیلی تھی۔

مالی ماہرین نے اپریل میں کم سرپلس کے لیے مارچ میں 3 ارب 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے ریکارڈ تجارتی خسارے کو اہم وجہ قرار دیا، برآمدی صنعت بڑی حد تک درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتی ہے اور حکومت کی جانب سے درآمدی پابندیوں میں نرمی کرنے کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے تجارتی عدم توازن بڑھ گیا ہے۔

حکام نے آئندہ 5 سال میں برآمدات کا 60 ارب ڈالر کا ایک بلند ہدف متعین کیا ہے، تاہم اس ہدف کے حصول سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ برآمدی حجم کو بڑھتی ہوئی درآمدات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس دباؤ کے باوجود حکومت کرنٹ اکاؤنٹ کے مثبت رجحان پر یقین رکھتی ہے، جس کی بڑی حد تک حمایت ریمیٹنس (زرمبادلہ) کی آمد سے حاصل ہو رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو توقع ہے کہ ترسیلات زر مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 27 فیصد زیادہ ہیں جو کہ بیرونی ذمہ داریوں کے لیے اہم حفاظتی جال فراہم کرتی ہیں۔

تاہم حکومت کے لیے قرض کی ادائیگی بڑا بوجھ بنی ہوئی ہے، پاکستان کو مالی سال 25 کے دوران 26 ارب 20 کروڑ ڈالر کے بیرونی قرض کی قسطیں ادا کرنے کی توقع ہے۔

ایس بی پی نے کہا کہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی رول اوور یا واپس کیا جا چکا ہے، جب کہ باقی ادائیگیاں جون 2025 کے آخر تک واجب الادا ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برآمدات میں قابل ذکر اضافہ نہ ہونے کی صورت میں یہی چیلنج مالی سال 26 میں بھی جاری رہے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ عرب ممالک میں پاکستان سے لیبر کو بھیج کر ترسیلات زر میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم افرادی قوت کی برآمدات کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

بینکاروں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مختصر تنازع کے دوران محتاط تھے اور ممکنہ سرمایہ کی کمی کے بارے میں تشویش تھی، البتہ، صورتحال جلد ہی کمزور ہوگئی جس نے تجارت یا کرنسی مارکیٹ پر کسی بڑے اثرات کو روکا ہے۔

انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے 7 ارب ڈالر کے قرض پیکیج کے تحت دوسری قسط کی منظوری اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اضافی ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی مختص رقم کے بعد سرمایہ کاروں کے بہتر جذبات کی طرف بھی اشارہ کیا۔

ریڈی میڈ گارمنٹس کے کاروبار سے منسلک امیر عزیز نے کہا کہ یہ آمدنی مقامی کرنسی کی حمایت میں مددگار ثابت ہوئی اور زر مبادلہ کی شرح میں استحکام میں معاونت فراہم کی، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا حکومت کے لیے اچھا ہے لیکن مقامی صورتحال اس کے برعکس ہے، زراعت اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ جیسے بڑے اہم شعبہ جات کمزور ہیں۔

براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں بڑی کمی

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اپریل میں 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 14 کروڑ 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ علاقائی جغرافیائی کشیدگی کے درمیان سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاس ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں جولائی تا اپریل مجموعی ایف ڈی آئی 2.8 فیصد کی کمی کے ساتھ ایک ارب 78 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی، جو کہ پچھلے سال اسی مدت میں ایک ارب 83 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ڈالر تھی۔

تجزیہ کاروں نے اپریل کے مہینے میں ایف ڈی آئی میں تیزی سے کمی کو بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے منسلک کیا، بالخصوص 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال سے، جس نے دو طرفہ تعلقات کے بگڑنے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو محتاط بنا دیا۔

مشہور خبریں۔

نگران حکومت کا پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

?️ 1 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی

واشنگٹن عراقی کردستان میں کیا کرنا چاہتا ہے؟

?️ 28 جون 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی مسلح فوج کی کمیٹی نے عراق کے

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی تازہ ترین صورتحال

?️ 10 جون 2024سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل نے سعودی عرب اور اسرائیلی حکومت کے درمیان

داعش کو بنانے میں کون کون ممالک براست شامل تھے؟ ترکی کے میگزین کا انکشاف

?️ 18 فروری 2024سچ خبریں: ترک میگزین یتکنز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے

صیہونیوں کے ہاتھوں اب تک کتنے فلسطینی طبی مراکز تباہ ہو چکے ہیں؟ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ

?️ 10 فروری 2024صیہونیوں کے ہاتھوں اب تک کتنے فلسطینی طبی مراکز تباہ ہو چکے

پینٹاگون نے شام کے باغوز میں 2019 کے حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا

?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں ایک تحقیقات کے نتائج

جب تک اسرائیلی قبضہ جاری رہے گا، مزاحمتی ہتھیار برقرار رہیں گے: حماس کا اعلان

?️ 26 ستمبر 2025سچ خبریں: فلسطینی خود مختار حکومت کے صدر محمود عباس کی اقوام متحدہ

پاکستان کی 48 جامعات نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں جگہ بنالی

?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی 48 جامعات نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے