اومیکرون کے باعث پاکستان کا صحت کا شعبہ نمایاں دباؤ میں مبتلا ہوسکتا ہے

?️

اسلام آباد(سچ خریں) کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث پاکستان کا صحت کا شعبہ نمایاں دباؤ میں مبتلا ہوسکتا ہے اس کے باوجود کورونا وائرس کے مثبت کیسز اور اس سے اموات میں کمی دیکھی جارہی ہے تفصیلات کے مطابق  اس بات کی نشاندہی منصفانہ اور شفاف انتخابات کے نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے تیار اور شائع کردہ ’کووڈ نائنٹین رسپونس اور ریلیف گورننس مانیٹرنگ‘ نامی رپورٹ میں کی گئی۔

فافن نے کورونا وائرس سے متعلق رپورٹ تیار کرنے کے لیے چاروں صوبوں کے 64 اضلاع سے یکم اکتوبر سے 15 دسمبر 2021تک کے اعدادو شمار جمع کیے، اعدادو شمار کلیدی اسٹیک ہولڈرز سمیت اضلاع میں تعینات آزاد مشاہدین کے انٹرویوز پر مبنی ہیں۔

حکومتی رد عمل اور عوام کے رویے کا مشاہدہ بھی کرتے ہوئے، نیٹ ورک نے بار بار کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے شعبہ صحت کی ترجیحات پر توجہ دینے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

صحت کا نظام اب بھی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ جنوری سے ستمبر کے دوران ڈینگی کے 48 ہزار 906 کیسز اور 183 اموات رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حالات پر قابو کرتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی استعمال کی جائے تاکہ آبادی کو اومیکرون ویرینٹ کے خطرات محفوظ رکھا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ویکسین لگوانےکے عمل میں اب بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، بڑی تعداد میں شہریوں نے اب تک ویکسین نہیں لگوائی ہے،اومیکرون اور دیگر ویرینٹ سے ویکسین کے ذریعے ہی بچا جاسکتا ہے۔ا

رپورٹ میں ویکسین لگوانے کے عمل میں درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ ویکسینیشن کے عمل کو ملک کے دور دراز علاقوں تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ محکمہ صحت کے عملے اور عوام کے درمیان گردش کرنے والی غلط معلومات اور افواہوں نے ویکسین مہم کو سست کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہیے کہ غلط معلومات اور افواہوں کے خاتمے کے لیے وسیع مہم چلائے اور شعبہ صحت کے عملے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کی جاسکے۔

رپورٹ عوامی مقامات اور دفاتر میں ایس او پیز کی رجحان ختم ہونے کی عکاسی بھی کرتی ہے جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، عوامی مقامات پر کی جانے والی مانیٹرنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کورونا وائرس کی ایس او پیز کی تکمیل نہیں کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں کورونا وائرس سے آگاہی کے حوالے سے عوام کو بڑے پیمانے پر معلومات فراہم کی گئی لیکن تکمیل اب بھی کم ہے،تحقیق میں شامل اضلاع کے صرف 18 فیصد علاقوں کے افراد کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے خطرات کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔

29 نومبر کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے شہریوں سے کورونا وائرس ویکسین کی مکمل خوراک لگوانے کی اپیل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کا اعلان کیا تھا، جس میں نئے ویرینٹ سےمتاثر ممالک میں سفر سےرکنے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

تربیلا ڈیم سے پیداوار کی کمی سے ملک میں بجلی بحران کا خدشہ

?️ 28 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق تربیلا ڈیم سے 3 ہزار

اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ جاری، اقوام متحدہ نے اہم رپورٹ جاری کردی

?️ 17 جولائی 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے رابطہ برائے انسانی امور (او سی

پی ٹی آئی کا صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بائیکاٹ کا فیصلہ

?️ 6 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے صدر مملکت کے پارلیمنٹ

ٹرمپ کی امن کونسل کے باوجود غزہ پر حملوں میں تیزی 

?️ 21 فروری 2026 سچ خبریں:حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ صیہونی

ٹویٹر کی جانب سے صارفین کے لیے نیا فیچرمتعارف

?️ 15 جولائی 2021کیلی فورنیا( سچ خبریں)ٹویٹر نے صارفین کے ایک اور زبردست فیچر متعارف

یوکرین کے لیے سب سے بڑا امریکی امدادی پیکج

?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد کا اگلا پیکیج جس کی

سعودی اتحاد یمنی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے اور انہیں میدان جنگ میں بھیجتا ہے

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:  صوبہ معرب کے شہر صراوا کے بڑے علاقوں کی آزادی

‏قوم برسوں فیض حمید، جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔ وزیر دفاع

?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے