?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نئے مالی سال کے تیسرے ہفتے میں ہی حکومت نے ضمنی گرانٹس کے دروازے کھولتے ہوئے آئندہ عام انتخابات کے لیے 42 ارب 53 کروڑ روپے اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے نئی تشکیل شدہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے لیے 20 کروڑ روپے کی منظوری دے دی۔
وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابات کرانے کے لیے درکار پہلی قسط کے طور پر 10 ارب روپے فوری طور پر جاری کرنے کی بھی منظوری دی، ضرورت پڑنے پر حکومت مزید فنڈز جاری کرے گی۔
گزشتہ سال نومبر میں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاری کے لیے حکومت سے 47 ارب 42 کروڑ روپے طلب کیے تھے جس میں سے 31 ارب 40 کروڑ روپے کی پہلی قسط فوری جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔
تاہم وزارت خزانہ نے مالیاتی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اس مطالبے کو منظور نہیں کیا تھا جب کہ حکمران اتحاد شیڈول سے قبل انتخابات کرانے کے حق میں نہیں تھی، تاہم حکومت نے اب بھی انتخابات کی ابتدائی تیاریوں کے لیے گزشتہ بجٹ میں مختص کیے گئے 5 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔
رواں ہفتے کے شروع میں الیکشن کمیشن پاکستان نے ایک بار پھر حکومت کو انتخابات کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی اس کی آئینی ذمہ داری کے بارے میں یاد دہانی کراتے ہوئے باقی 42 ارب 53 کرور روپے جاری کرنے کا کہا۔
47 ارب 42 کروڑ روپے کے اخراجات کے ابتدائی تخمینے کے ساتھ آئندہ انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن ہوں گے جو کہ 2018 کے الیکشن میں خرچ کیے گئے 22 ارب روپے کی رقم سے سے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں، اس سے قبل 2008 میں انتخابات کی لاگت ایک ارب 84 کروڑ اور 2013 میں 4 ارب 73 کروڑ روپے تھی۔
الیکشن 2023 کے لیے تخمینہ لگائی گئی رقم میں صوبائی سطح پر سول انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اخراجات شامل نہیں ہیں، 47 ارب 40 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ بھی ایک محتاط اندازہ ہے، ان اخراجات میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ ابتدائی طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے لیے وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو اضافی فنڈز فراہم کرنے سے گریزاں تھی، یہ فورم 2 جون کو خلیجی ممالک سے زراعت، معدنیات، دفاع، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم کی سربراہی میں 17 جون کو باضابطہ طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا، اس کونسل میں 9 وفاقی وزرا اور آرمی چیف سمیت اہم فوجی افسران شامل ہیں۔
سیکرٹریٹ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے لیے فنڈز مختص کرنے کا معاملہ اعلیٰ سطح پر زیر بحث رہا اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر 20 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کرے تاکہ سیکریٹریٹ کام شروع کر سکے۔


مشہور خبریں۔
مجھے پلاسٹک نہ کہا جائے، متھیرا کا جواب
?️ 23 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں)اداکارہ و ٹی وی میزبان متھیرا نے انکشاف کیا کہ
مارچ
امریکہ نے کیا 170 ملین صارفین کے لیے TikTok کو فلٹر
?️ 19 جنوری 2025سچ خبریں: امریکہ اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی
جنوری
بھارتی انتظامیہ نے میر واعظ کو تین روز بعد پروفیسر بٹ کے اہلخانہ سے تعزیت کیلئے سوپور جانے کی اجازت دی
?️ 20 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
ستمبر
نیویارک میں اسرائیل مردہ باد کے نعرے
?️ 6 مئی 2026سچ خبریں:نیویارک شہر میں ایک عبادت گاہ کے باہر صیہونیت مخالف مظاہرین
مئی
منیلا میں لاوروف اور روبیو کی ملاقات
?️ 23 جولائی 2026سچ خبریں: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ
جولائی
ایرانی صدر کا دورہ روس
?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی اپنے ہم منصب
جنوری
مقبوضہ فلسطین میں صیہونی بستیوں کی سیکورٹی کمزور
?️ 1 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج سے وابستہ مطالعاتی مرکز میں کی گئی
فروری
غزہ میں جنگ بندی سے امریکہ کی ہچکچاہٹ پر روس کی تنقید
?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل نمائندے دمتری پولیانسکی
مارچ