القادر ٹرسٹ کیس: نیب کا بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ حاصل کرنے میں ناکام

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کی جانب سے گزشتہ رات بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تاہم نیب کو القادر ٹرسٹ کا ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں مل سکی۔

ڈان نیوز کے مطابق نیب ذرائع نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو نیب ریڈ کے حوالے سے پہلے سے معلومات مل چکی تھی، بحریہ ٹاؤن پر ریڈ کرنے کے حوالے سے دو تین دن سے منصوبہ بندی ہورہی تھی، ریڈ کرنے کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ منصوبے کو خفیہ رکھنے کے باوجود بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو ریڈ سے پہلے معلومات مل چکی تھی، بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے القادر ٹرسٹ کا ریکارڈ دفاتر سے غائب کردیا تھا۔

واضح رہے کہ نیب ترجمان برج لال دوسانی کا مؤقف جاننے کے لیے ڈان نیوز نے کئی بار ان سے رابطہ کیا لیکن نیب ترجمان نے پیغامات دیکھنے کے باوجود مؤقف نہیں دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی احتساب بیورو(نیب) نے القادر ٹرسٹ کیس میں تعاون نہ کرنے پر بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے دفاتر پر چھاپہ مارا تھا۔

اس پیشرفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ نیب گزشتہ کئی روز سے بحریہ ٹاؤن پر چھاپے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نیب نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس سے منسلک دستاویزات حاصل کرنے کے لیے چھاپہ مارا ہے کیونکہ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی نے القادر ٹرسٹ کیس میں کوئی تعاون نہیں کیا۔

دوسری جانب نیب ترجمان برج لال دوسانی نے چھاپے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف نیب میں القادر ٹرسٹ کا مقدمہ چل رہا ہے جہاں سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سیکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی تھی۔

یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔

عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

صہیونی قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس کی شرط

?️ 2 اپریل 2025سچ خبریں: حماس تحریک کے رہنماؤں میں سے ایک سامی ابو زہری نے

این ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال اور بارشوں کے نئے اسپیل پر الرٹ جاری کردیا

?️ 4 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)

ہم آج بھی تقریبا 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں

?️ 8 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے فارن افیئرز میں

حماس عارضی جنگ بندی کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟

?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں: عربی اور عبرانی ذرائع کی رپورٹوں میں غزہ میں فلسطینی

واشنگٹن اور برسلز کی بالادستی کا دور ختم

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: روسی ڈوما کے سربراہ ویچسلاو ویلوڈن نے پیر کو ایک

جنگ سے متعلقہ اخراجات کی وجہ سے اسرائیل کا بجٹ خسارہ میں

?️ 11 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ اور لبنان میں صیہونی حکومت کی جنگ بندی کو

مغرب دوسرے ملکوں کے ساتھ کیسے چالیں چلتا ہے؟

?️ 18 ستمبر 2023سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ مغرب "یوکرین امن

نیتن یاہو اور اس کے اتحادیوں کی صرف 4 ماہ میں 6 بڑی شکست

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:عبرانی اخبار Ma’ariv کی طرف سے شائع ہونے والے تازہ ترین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے