افغان عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا اور خطے کے حوالے سے ہمارا نکتہ نظر وسیع ہے۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے موقع پر امریکا میں ہفتہ وار میگزین ’نیوز ویک‘ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورے خطے کے بارے میں ہمارا نکتہ نظر وسیع ہے لیکن یہ روزمرہ کے واقعات بعض اوقات ہمارے تعلقات کو خراب اور پیچیدہ بنا دیتے ہیں، تاہم تعلقات کو اس طریقے سے منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ہو۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت کو معاشی عدم استحکام کی صورت حال پر گہری تشویش ہے، جو اس وقت کافی حد تک قابو میں ہے لیکن ہم قانونی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور جب استحکام کی بات آتی ہے تو ہم اس حوالے سے اقدامات کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

جنوبی ایشیا میں امریکی توجہ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی اور اس خطے سے آنے والے فرد کی حیثیت سے بہت حیرت ہوگی کہ خطے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا اگر امریکا کی کم توجہ کا مستحق ہےکیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں اصل میں بہت اہمم چیزیں وقوع پذیر ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیائی خطے کی تقریباً 3 سے 4 ارب کی آبادی ہے تو 4 ارب لوگوں کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے، تقریباً نصف انسانیت وہاں رہتی ہے۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ان علاقوں میں ممکنہ تنازعات ہیں اور کشمیر کے تنازع کا ذکر نہ کرنا بہت بخل کی بات ہو گی کیونکہ یہ دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے وزیراعظم کی ضرورت ہےکہ یورپی براعظم پر مسئلہ کشمیر کے کس قسم کے مضمرات ہوں گے، پورے کرہ ارض پر شمالی امریکا اور باقی حصوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے جنوبی چین کے گرد انڈوپیسفک پالیسی کے تحت ایک علاقائی طاقت کے گھیراؤ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس حوالے سے ہونی والی تمام پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد انڈو پیسفک حکمت عملی ان مقاصد کے لیے کی گئی ہے جو مغربی طاقتوں کے لیے موزوں ہے، اس لیےتشویش کا عنصر ہے اور پاکستان کی جانب سے احتیاط کا احساس جائز ہے اور ہم اس کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم اس طرح کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے اپنی تیاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کینیڈا اور امریکہ کے تجارتی مذاکرات ناکام

?️ 22 اگست 2026سچ خبریں: کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات روک دیے ہیں،

سعودی عرب میں نئی فوجی تنصیبات تعمیر کرنے کا امریکی منصوبہ

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکی دفاعی ذرائع نے اعلان کیا کہ پینٹاگون سعودی عرب میں

آل سعود کے ساتھ صیہونی حکومت کے تعلقات معمول پر

?️ 11 نومبر 2021سچ خبریں : عبرانی زبان کے اخبار Yedioth Ahronoth نے رپورٹ کیا کہ امریکہ

بائیڈن کا بیٹا یوکرین میں فوجی حیاتیاتی سرگرمیوں میں ملوث ہے

?️ 25 مارچ 2022سچ خبریں:  روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی

عراقی انتخابات اور غیر ملکی اداکاروں کا کردار

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: عراق میں پارلیمانی انتخابات 10 نومبر کو منعقد ہو رہے

بیروت اجلاس میں سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کی غیر حاضری کی وجوہات

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:بیروت میں ہونے والے عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں سعودی

جو دشمن کو میدان میں نہیں ملا، سیاست میں نہیں دیں گے : معاون بری

?️ 16 اگست 2026سچ خبریں: لبنان کی طرف سے صیہونی حکومت کے جنوبی لبنان میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے