’افغانستان کے خلاف جنگ نہیں کرنی چاہیئے نہ ہم افورڈ کرسکتے ہیں‘

?️

کراچی: (سچ خبریں) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک کے حالات سنگین ہوچکے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بدامنی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اگر فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجائے تو جنگیں نہیں جیتی جاتیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام مسائل کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخواہ میں 57 حملے ہوچکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں بدامنی بڑھ رہی ہے، یہ سب اس لیے ہورہا ہے کیوں کہ ہمارے پاس اپنی کوئی مؤثر پالیسی نہیں ہے، پہلے پرویز مشرف نے ملکی معاملات امریکہ کے سپرد کر دیئے، جس کے نتیجے میں سی آئی اے، را اور بلیک واٹر جیسے ادارے پاکستان میں مداخلت کرنے لگے اور ملک کو 150 سے 200 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، اب بھی ہمیں افغانستان کے خلاف جنگ نہیں کرنی چاہیئے نہ ہی ہم ایسی جنگ کو افورڈ کرسکتے ہیں، افغانستان کو بھی یہ سمجھنا چاہیئے کہ ان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیئے، اگر حکومت کو افغانستان سے مذاکرات میں جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو ہم ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ بلوچ عوام میں عدم اعتماد کیوں بڑھ رہا ہے؟ بلوچ عوام کو ان کا حق نہیں دیا گیا یہاں تک کہ سی پیک میں بھی انہیں شامل نہیں کیا گیا، جو بھی آئین کے خلاف جائے گا وہ دہشت گرد ہے مگر اس وقت خود حکومت آئین کے خلاف جارہی ہے، بلوچ عوام کے حقوق کو سلب کرنے کے بجائے انہیں ان کا حق دینا چاہیئے، نہ کہ انہیں جبری طور پر غائب کیا جائے، جماعت اسلامی 14 اپریل کو اسلام آباد میں بلوچ عوام کے لیے کانفرنس منعقد کرے گی جس میں ان کے مسائل اور حقوق پر بات کی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ سے کینال نکالنے کا منصوبہ مسترد کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو سندھ کے پانی میں کمی آجائے گی، پیپلز پارٹی ایک طرف اس کینال کے خلاف اجلاس کر رہی ہے اور دوسری طرف خود اس منصوبے کا حصہ بنی ہوئی ہے، تمام صوبوں کے پانی کے کوٹے کو منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے، یہ حکمران دعویٰ کر رہے ہیں مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، ملک میں حقیقی ترقی کہیں نظر نہیں آ رہی صرف اشتہارات میں دکھائی جا رہی ہے، حکومت کی جانب سے اربوں روپے اشتہارات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ڈائیلاگ اور سفارتکاری سے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ اسحاق ڈار

?️ 25 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

صہیونی ویب سائٹ کا حزب اللہ کی صلاحیتیوں کے بارے میں اہم اعتراف

?️ 24 جولائی 2021سچ خبریں:اس وقت جبکہ تل ابیب نے حزب اللہ کے خلاف پروپگنڈے

2022 کے آخر تک اسرائیل کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا: صیہونی جنرل

?️ 20 جون 2022سچ خبریں:ایک اعلیٰ صہیونی فوجی عہدہ دار نے لبنانی حزب اللہ کے

ایران اور سعودی عرب کی سفارتی تنصیبات کو دوبارہ کھولنے پر امریکہ کا ردعمل

?️ 6 جون 2023سچ خبریں:سعودی عرب میں سفارتی تنصیبات کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے

سمگلنگ کا خاتمہ کئے بغیر معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی،شہباز شریف

?️ 25 اپریل 2024ایبٹ آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سمگلنگ کا خاتمہ

آئینی بینچ نے توہین عدالت کیس کی بنیاد بننے والے جسٹس منصور کے احکامات واپس لے لیے

?️ 28 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے توہین

پاکستان اور یورپی یونین کے 7 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس کی مشترکہ صدارت

?️ 22 نومبر 2025برسلز: (سچ خبریں) پاکستان اور یورپی یونین نے7 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد برسلز میں

Baking industry growth set to rise on more stable economy

?️ 16 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے