اشتعال انگیز گفتگو کا مقدمہ: مریم اورنگزیب کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے اشتعال انگیز گفتگو کرنے کے مقدمے میں عدم پیشی پر سابق وزیر اطلاعات و رہنما مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جج عبہر گل نے اشتعال انگیز گفتگو کرنے کے مقدمے کی سماعت کی۔

مقدمے میں عدم پیشی پر عدالت نے مریم اورنگزیب کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

میاں جاوید لطیف کے پیش ہونے پر عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے اور جاوید لطیف سمیت دیگر کو 9 دسمبر کو دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

واضح رہے کہ تھانہ گرین ٹاؤن پولیس نے مریم اورنگزیب، جاوید لطیف سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

ستمبر 2022 میں لاہور کے گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقامی مسجد کے امام کی مدعیت میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف سیکشن 9 (فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کا جرم) اور 11 ایکس-3 (شہری انتشار پیدا کرنے کی ذمہ داری) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ انہوں نے 14 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف کی پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے عمران خان کے خلاف مذہب کے نام پر تشویش ناک الزامات لگائے۔

مقدمے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل خان اور کنٹرولر پروگرام راشد بیگ کو بھی نامزد کیا گیا تھا اور ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پریس کانفرنس قومی ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔

پنجاب میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تھی اور اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) محمد ہاشم ڈوگر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ایف آئی آر کی کاپی شیئر کی اور کہا تھا کہ کسی بھی شہری بشمول عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت اور تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دی جاے گی۔

واضح رہے کہ پروگرام میں جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں احمدی کمیونٹی کی سپورٹ کر کے اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ جب عمران خان نے نیا پاکستان بنایا تو کراچی میں قادیانی سرگرم ہوگئے، کیا عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں نہیں کہا تھا کہ قادیانیوں کو مذہبی آزادی دی جائے گی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جاوید لطیف نے عمران خان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے پارٹی قیادت کے ساتھ مریم اورنگزیب کے کہنے پر متنازع بیان دیا۔

شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ اس پریس کانفرنس کے ایک روز بعد جاوید لطیف کی ایک اور پریس کانفرنس دیکھی جس میں انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے پہلے بیان پر قائم ہیں۔

بعد ازاں جاوید لطیف نے اپنے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں دائر مقدمات کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ اسلام آباد سے نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران میرے بیانات کے خلاف پنجاب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے مقدمات اسلام آباد کے علاوہ کہیں اور درج نہیں ہوسکتے کیونکہ پروگرام اسلام آباد سے نشر ہوا تھا۔

جاوید لطیف نے کہا تھا کہ یہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا دائرہ اختیار ہے کہ اگر پروگرام میں میری باتیں نامناسب اور جارحانہ ہیں تو وہ میرے خلاف کارروائی کرے اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کے خلاف دائر تمام مقدمات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے ہسپتالوں کی حالت پر انگریز ڈاکٹر کا چونکا دینے والا بیان

?️ 31 مئی 2024سچ خبریں: جب کہ صیہونی غاصب حکومت نے غزہ کے اسپتالوں اور

بائیڈن کو ٹرمپ کے ساتھ بحث سے پہلے طبی معائینہ کی ضرورت

?️ 25 جون 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ڈاکٹر نے انتخابی بحث سے

عرب ممالک صیہونیوں کا استقبال کرکے عدم استحکام کا ثبوت دیتے ہیں: فلسطینی مقاومت

?️ 15 فروری 2022سچ خبریں:  فلسطین میں اسلامی جہاد موومنٹ نے بحرین کی جانب سے

پنجاب حکومت کی کاشتکاروں کو صوبے سے باہر گندم کی نقل و حمل کی اجازت

?️ 9 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) پنجاب حکومت کی کاشتکاروں کو صوبے سے باہر گندم

صہیونی فوج میں ایران پر حملے کے غیر متوقع نتائج کا خوف وہراس

?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے تسلیم کیا کہ قابض حکومت کی فوج ممکنہ

ملکی اداروں کے خلاف بیان بازی کرنےوالوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا

?️ 8 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں ویمن یونیورسٹی کے نئے

یمن کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا:عطوان

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: علاقائی تزویراتی امور کے تجزیہ کار عطوان نے یمنیوں کو

برطانیہ میں پولیس کے خلاف شدید احتجاج، لندن پولیس اور مظاہرین کے مابین شدید جھڑپیں ہوگئیں

?️ 14 مارچ 2021لندن (سچ خبریں) برطانیہ میں پولیس کی دہشت گردی کے خلاف شدید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے