?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے چند روز بعد ہی پی ٹی آئی کے مزید 35 اراکین کے استعفے منظور کرلیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 64 کی شق ایک، قومی اسمبلی رولز اینڈ ریگولیشن 2007 کے مطابق پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے۔
پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کا اطلاق 11 اپریل 2022 سے ہوگا، اراکین کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان کو ارسال کردیے گئے۔
پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے اجتماعی استعفے دے دیے تھے، بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا جب کہ کراچی سے رکن اسمبلی شکور شاد نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔
واضح رہے کہ 17 جنوری کو بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، اس کے علاوہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا استعفیٰ بھی منظور کرلیا تھا۔
اسپیکر کی جانب سے اب تک مجموعی طور پی ٹی آئی کے 79 اراکین اور شیخ رشید سمیت 80 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جاچکے ہیں۔
جن اراکین اسمبلی کے استعفے آج منظور کیے گئے ان میں ڈاکٹر حیدر علی خان، سلیم رحمٰن، صاحبزادہ صبغت اللہ، محبوب شاہ، محمد بشیر خان، جنید اکبر، شیر اکبر خان، علی خان جدون، انجینئر عثمان خان ترکئی، مجاہد علی، ارباب عامر ایوب، شیر علی ارباب، شاہد احمد، گل داد خان، ساجد خان، محمد اقبال خان، عامر محمود کیانی، سید فیض الحسن، چوہدری شوکت علی بھاب شامل ہیں۔
دیگر اراکین میں عمر اسلم خان، امجد علی خان، خرم شہزاد، فیض اللہ، ملک کرامت علی کھوکھر، سید فخر امام، ظہور حسین قریشی، ابراہیم خان، طاہر اقبال، اورنگزیب خان کھچی، مخدوم خسرو بختیار، عبدالمجید خان، عندلیب عباس، عاصمہ قدیر، ملیکہ علی بخاری اور منورہ بی بی بلوچ شامل ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا تھا۔
اسپیکر کی جانب سے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے ایک ایسے موقع پر منظور کیے گئے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے زمان پارک میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران قومی اسمبلی میں واپسی کا اشارہ دیا تھا۔
رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے اراکین قومی اسمبلی نگراں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت کے لیے ایوان میں واپس جاسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اسمبلی سے بدستور باہر رہی تو حکومت اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض نگراں حکومت کی تشکیل کریں گے، تاہم اس بیان کی ڈان ڈاٹ کام کو آزادانہ طور تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ میں کس کی جیت ہے؟سید حسن نصراللہ کی زبانی
?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں: سید حسن نصراللہ نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی
مارچ
نبیہ بری: لبنان اتحاد کے ساتھ اسرائیل پر فیصلہ کن فتح حاصل کرے گا
?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیتے
اکتوبر
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ معاف نہیں بلکہ مؤخر کیا ہے،خرم دستگیر
?️ 14 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے
ستمبر
جرمن یونیورسٹی شہروں میں طلباء کے لیے رہائش کے اخراجات میں نمایاں اضافہ
?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:ایک رپورٹ میں Pasayer Neue Perse اخبار نے لکھا کہ تازہ
مارچ
جنگ کے خاتمے پر سب خوش ہیں، اسرائیلی نہیں! وجہ ؟
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: اورلی نوئی نے ایک مضمون میں لکھا کہ لبنانیوں کی
نومبر
ایران کے جواب کو لے کر صیہونی حیران و پریشان
?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت
اپریل
ایران کے جوہری معاہدے کا لبنان کے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں: شیخ نعیم قاسم
?️ 20 اگست 2022سچ خبریں: آج ہفتہ کو لبنان کی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری
اگست
سعودی اتحاد یمنی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے اور انہیں میدان جنگ میں بھیجتا ہے
?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: صوبہ معرب کے شہر صراوا کے بڑے علاقوں کی آزادی
اکتوبر