اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ٹیکس نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کرنے سے روک دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کے نان ٹیکس فائلرز کی موبائل فون سمز بلاک کرنے کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نجی موبائل فون کمپنی کی نان ٹیکس فائلرز کی موبائل فون سمز بلاک کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار وکیل سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ قانون میں کی گئی ترمیم آئین کے آرٹیکل 18 میں کاروبار کی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی، حکومت قانون میں ترمیم سے لوگوں کی موبائل فون سمز بلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں کر سکتی۔

ان کا استدلال تھا کہ موبائل فون کمپنیوں کی 5 لاکھ سے زائد سمز بلاک ہونے کی صورت میں سالانہ 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ  نے حکومت کو نان فائلرز کی موبائل فون سمز بلاک کرنے سے روکتے ہوئے درخواست پر 27 مئی تک فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے نان ٹیکس فائلرز کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کی سم بلاک کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

29 اپریل کو جاری کردہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر (آئی ٹی جی او) کے تحت ایف بی آر کے حکم کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو خط بھیجا گیا تھا جس میں ٹیکس سال 2023 میں گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہنے والے 5 لاکھ 6 ہزار 671 افراد کی سمز بلاک کرنے کا کہا گیا تھا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے مطالبات کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ٹیکس فائل نہ کرنے والے نان فائلرز کی حتمی فہرست مرتب کرنے کا آغاز کیا تھا، ایف بی آر نے انکم ٹیکس کا اہل ہونے کے باوجود ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

تاہم گزشتہ ہفتے ٹیلی کام کمپنیوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے کے فیصلے پر مشترکہ تحفظات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ارسال کردیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا اور اس سے ٹیلی کام صارفین پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ ٹیلی کام ایکٹ اور قابل اطلاق ضوابط میں بیان کردہ حالات کے علاوہ اپنے صارفین کو بلا تعطل خدمات فراہم کرنے کے پابند ہیں، ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں سی ایم او کسی بھی کسٹمر کی سروسز کو منقطع یا بلاک کر سکیں۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر کو غیر ضروری جلد بازی کے ساتھ لاگو کرنا صارفین پر منفی اثر ڈالے گا اور اس سے صارفین کی ضروری خدمات حاصل کرنے کی صلاحیت پر شدید اثر پڑے گا۔

خط کے مطابق صارفین کے تحفظ کا پہلو اہم ہے، صارفین کے تحفظ کے ضوابط آپریٹرز کو حکم دیتے ہیں کہ سروس کی معطلی اس طرح کے ارادوں کی پیشگی اطلاع سے مشروط ہے اور انکم ٹیکس جنرل آرڈر میں قانونی نقائص کے باعث فوری صورت میں نوٹس کا اجرا بھی ممکن نہیں۔

سی ایم اوز نے مشورہ دیا ہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری پر منفی اثر ڈالے بغیر ملزم پر براہ راست پابندی لگانی چاہیے اور سزا دی جانی چاہیے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ٹیلی کام آپریٹرز آئی ٹی جی او کی تعمیل کرتے ہیں تو متاثرہ افراد سیلولر موبائل آپریٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

خط کے مطابق متاثرہ فرد سم کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ہونے والے خصوصی اخراجات اور نقصانات کی وصولی کے لیے بھی کوشش کر سکتا ہے، یہ منصفانہ، غیر معقول اور سی ایم اوز کے لیے ناقابل قبول ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں ریونیو اکٹھا کرنے میں سب سے بڑی تعاون کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہیں اور اس طرح کے احکامات کو نافذ کرنے سے پہلے صارفین کے منفی نتائج یا دعوؤں کو روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کے ذریعے سی ایم اوز کو کچھ تحفظات یا معاوضہ دینا ضروری ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری نے یہ بھی کہا ہے کہ سمز کی زیادہ تعداد میں بلاکنگ سے تکنیکی طور پر مسئلہ ہو گا اور اگر قانون کے مطابق ضرورت ہو تو سی ایم اوز کو ایسے صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے بلاک کرنے سے پہلے متعدد بار متنبہ کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ وہ اپنے صارفین کو درست وجوہات کے ساتھ پیشگی قانونی نوٹس فراہم کرنے کے پابند ہیں جو اس معاملے میں غیر حاضر ہے۔

خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیز کو اندرونی عمل اور نظام کی ترقی کو فروغ دینا ہوگا جس کے لیے مناسب وقت اور وسائل درکار ہیں، لہذا ایسے انکم ٹیکس جنرل آرڈر کی فوری تعمیل مشکل ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ ہر فرد قانون کے تحت مناسب عمل کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک کا حقدار ہے، لہٰذاانکم ٹیکس جنرل آرڈر سے متاثر ہونے والے افراد کو ایک وسیع میڈیا مہم کے ذریعے باضابطہ طور پر مطلع کیا جانا چاہیے اور انہیں شوکاز نوٹس فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ وہ اپنا کیس ٹریبونل یا عدالت میں پیش کر سکیں۔

بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے 5لاکھ سے زائد سمز بند کرنے کی معذرت کر لی تھی۔

پی ٹی اے نے سم بلاک کرنے کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو جواب دیا تھا کہ قانونی طور پر پی ٹی اے سمز بلاک کرنے کا پابند نہیں ہے۔

پی ٹی اے نے ایف بی آر کو لکھے گئے جوابی خط میں واضح کیا تھا کہ نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے کا عمل ہمارے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے مرد حضرات کے نام پر سمز استعمال کرتے ہیں۔

10 مئی کو نے 5 ہزار نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے کے لیے تفصیلات ٹیلی کام آپریٹرز کو فراہم کردی تھیں جس کے بعد ٹیلی کام آپریٹرز نے نان فائلرز کو سمز بلاک کرنے سے خبردار کرنے کے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تھے۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب اور ترکی نے یمن میں جنگ بندی میں توسیع کا کیا خیر مقدم

?️ 3 جون 2022سچ خبریں:   سعودی عرب اور ترکی نے جمعرات کو یمن میں جنگ

مریم نواز کا ملتان میں قاسم بیلہ ریلیف کیمپ کا دورہ، بچوں میں تحائف تقسیم کیے

?️ 3 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ضلع

سلامتی اور قبضہ ایک ساتھ ہیں: سید حسن نصراللہ

?️ 30 اپریل 2022سچ خبریں:  لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر

50 سال کے افراد کو بھی کورونا ویکسین لگائی جائے گی: اسد عمر

?️ 26 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اسد عمر نے کہاہے کہ  حکومت نے

10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کا محاصرہ کررکھا ہے

?️ 26 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب

سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ 

?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں: الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک، قطر نے رپورٹ کیا ہے کہ

کنست میں بن گویر کو شکست؛ فلسطینی قیدیوں تک ریڈ کراس کی رسائی پر پابندی کا بل مسترد

?️ 30 جون 2026سچ خبریں: اسرائیلی پارلیمان کی جنرل اسمبلی نے ایک ایسے بل کو

صیہونی حکومت کو مایوس کرنے میں یمنی محاذ کا موثر کردار

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: فوجی اور اسٹریٹیجک امور کے ماہر نے میزائل اور ڈرون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے