اسلام آباد افغان مہاجرین کے لیے اپنی سرحد کھولنے کے حق میں نہیں ہے

شیخ رشید

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) افغانستان کے مختلف شہروں پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں کے لوگ مہاجرت کر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ اسلام آباد افغان مہاجرین کے لیے اپنی سرحد کھولنے کے حق میں نہیں ہے اور اگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہوا تو پاکستان ’ایرانی ماڈل‘ کو زیر غور لائے گا۔

 وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ ہم نے پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحد نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن امدادی ادارے دوسری طرف سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اگر صورتحال بگڑتی ہے تو ہم اپنی سرزمین میں پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے سخت کنٹرول اور نگرانی کے ساتھ سرحد کے ساتھ بستیاں قائم کریں گے’۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ حکومت ان کیمپوں میں مہاجرین پر قابو پانے اور ان کا مؤثر انتظام کرنے کے لیے ایرانی ماڈل کی بھی پیروی کرے گی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں 8 لاکھ افغان مہاجرین موجود تھے، وہ سب 1980 کے دہائی میں ایرانی سرحدی علاقوں میں قائم گاؤں میں رہ رہے تھے اور انہیں شہروں اور قصبوں میں آباد ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کی شام ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

وزیر اعظم نے صدارتی انتخاب میں کامیابی پر ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے افغانستان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس کے منفی نتائج پاکستان اور ایران دونوں ہی ممالک کے لیے یکساں ہوں گے۔عہدیدار نے بتایا کہ افغانستان سے متعلق اپنی گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے ایرانی ماڈل پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے عہدیداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی ٹیم، ماڈل کے کامیاب نفاذ کو سمجھنے کے لیے جلد ہی ایران کا دورہ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ بیشتر سرحد پر باڑ لگا دی گئی ہے جس سے غیر قانونی نقل و حرکت مشکل ہوگئی ہے۔

دوسری جانب چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین سلیم خان نے کہا کہ فی الحال سرحد پر صورتحال تشویشناک نہیں ہے لیکن صورتحال خراب ہوئی تو بین الاقوامی تنظیمیں اور ڈونر ایجنسیاں اسلام آباد کو آگاہ کریں گی۔

سلیم خان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان، اقوام متحدہ کے مہاجرین کے کنونشن 1951 اور 1967 کے پروٹوکول پر دستخط کنندہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود یہ ملک 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے 30 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ ایک قابل تحسین کامیابی ہے کہ پاکستان میں مقامی اور افغان مہاجرین کے مابین کوئی تناؤ نہیں رہا ہے۔

چیف کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں تمام مہاجرین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی بھی موجود ہیں جنہوں نے مختلف کھیلوں کی اکیڈمیوں اور مراکز میں کھیل سیکھا۔

مختلف صوبوں اور یہاں تک کہ گلگت بلتستان کے عہدیداروں نے اپنے علاقوں میں افغان مہاجرین کی آمد پر اپنی تشویش ظاہر کی۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے ایک رکن نے کہا کہ افغان مہاجرین سے جُڑا سب سے بڑا مسئلہ افغان فرقہ وارانہ دہشت گردوں کی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جنہیں فوج نے ختم کردیا تھا۔

مشہور خبریں۔

ترکی کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی توسعہ کی مذمت 

?️ 16 فروری 2026 سچ خبریں:ترکیہ کی وزارت خارجہ نے آج اتوار کو ایک بیان

سعودی جیلوں میں قید خواتین کے اہل خانہ کو بھی تشدد کا سامنا

?️ 15 اگست 2022سچ خبریں:ایک سعودی سماجی کارکن نے آل سعود کی طرف سے ایک

سوات میں ترقیاتی کاموں سے متعلق  مراد سعید کا اہم بیان

?️ 22 دسمبر 2021سوات(سچ خبریں) وفاقی وزیر مراد سعید نے سوات میں ترقیاتی کاموں سے

ملازمین کی برطرفی پر اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث

?️ 22 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی اسمبلی میں ملازمین کی برطرفی کے معاملے پر

زیلنسکی نے بائیڈن انتظامیہ سے حاصل کردہ میزائل فروخت کر دیے : ٹرمپ

?️ 16 اکتوبر 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Newsmax کو انٹرویو میں زیلنسکی پر

امریکہ اور اسرائیل بھروسہ کے لائق نہیں ہیں: حماس

?️ 7 جون 2024سچ خبریں: حماس تحریک کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے بتایا کہ

۱۰۰ بین الاقوامی ماہرین قانون کی ایران کے خلاف امریکی جنگی جرائم کی مذمت

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں:100 بین الاقوامی ماہرین قانون نے کھلے خط میں امریکہ کی

افغان لڑکیوں کے قتل کی مذمت

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    گزشتہ دنوں جب ایران کے مختلف شہروں میں مہسا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے