?️
کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اختر مینگل ریڈ زون میں دھرنا دینے پر بضد ہیں لیکن ان کو اجازت نہیں دیں گے، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پہلے دن سے ہدایت کی تھی کہ ایسی بات نہ کی جائے جس سے مذاکرات ڈی ریل ہوں،ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور مارچ کے شرکا سے دو مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔
مارچ کے دوران قیادت کی جانب سے کی گئی تقریر پر بھی حکومت کو تشویش ہے۔ جس کا جائزہ لیا گیا ہے اور اب قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بطور ترجمان جواب دینے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن فی الحال موقع نہیں ہے۔ ہم صبر و تحمل کا مظاہرہ اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر جواب نہیں دے رہے۔
ہم نے انہیں شاہوانی سٹیڈیم، سریاب روڈ تک آنے کی اجازت دی لیکن وہ اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔
ترجمان حکومت بلوچستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی این پی (مینگل) کے کچھ عناصر ریڈ زون کو یرغمال بنانے پر بضد ہیں مگر حکومت قانون کے مطابق انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔صوبے میں اس وقت بھی دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون اپنا راستہ لے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان بلوچستان شاہد رند نے مزید کہا کہ صوبائی وزرا کی کمیٹی نے سردار اختر مینگل سے مذاکرات کے 2 دور کئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے عبدالمالک بلوچ، جے یو آئی، اے این پی و دیگر سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جس کے نتیجے میں وزرا کی مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی۔ہم امید کرتے ہیں مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا، لیکن اگر وہ ضد پر قائم رہے تو حکومت کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔اختر مینگل دعویٰ کرتے ہیں کہ مذاکراتی کمیٹی بے اختیار تھی۔ ان کے 3 مطالبات تھے سب سے بڑا مطالبہ بی وائی سی قیادت کی رہائی تھی۔
صوبائی حکومت کا موقف واضح تھا کہ عدالتیں ریلیف فراہم کرتی ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں ان کا دوسرا مطالبہ کوئٹہ کی طرف مارچ تھا۔ مذاکرات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ شاہوانی سٹیڈیم سریاب روڈ تک مارچ کی اجازت دی جائے گی۔اختر مینگل کو مذاکراتی کمیٹی نے جو آفر دی حکومت اب بھی اس پر قائم ہے فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔ بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے خلاف ورزی پر قانون اپنا راستہ لے گا۔
ریڈ زون کو یرغمال بنانے کی اجازت پہلے بھی نہیں دی اب بھی نہیں دیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کا واضح موقف ہے پرامن احتجاج حق ہے لیکن مقام اور وقت کا حق ضلعی انتظامیہ کا ہے۔اختر مینگل نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور وہ ریڈ زون پر دھرنے کیلئے بضد ہیں جس کی اجازت نہیں دیں گے۔ترجمان صوبائی حکومت نے کہا کہ حکومت کی پہلے دن سے کوشش تھی کہ سیاسی ڈائیلاگ سے مسئلہ حل ہو اب بھی کر رہے ہیں۔
امید ہے بلوچستان حکومت سے ہی مسئلہ حل ہو دونوں طرف سے لچک دکھانی ہوگی۔ حکومت نے لچک دکھا دی اختر مینگل ضد پر رہیں گے تو ہمارے پاس بھی دوسرے آپشنز موجود ہیں۔ماہ رنگ بلوچستان سے مذاکرات کے حوالے سے صحافی کے سوال کے جواب میں ترجمان بلوچستان شاہد رند کا کہنا تھا کہ میرے علم کے مطابق وزرا کمیٹی یا حکومتی سطح پر ان سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بی وائی سی کیا ہے اس سوال کا جواب وہی بہتر دے سکتے ہیں حکومت فی الحال کوئی رائے نہیں دے گی۔


مشہور خبریں۔
معیشت کا جنازہ نکالنے والی امپورٹڈ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے میں بھی ناکام رہی، عمران خان
?️ 19 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی
دسمبر
صدر عارف علوی نے ضمنی فنانس بل کی منظوری دے دی
?️ 23 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فنانس (سپلیمنٹری) بل
فروری
کراچی آرٹس کونسل کا 38 روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول منعقد کرنے کا اعلان
?️ 28 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان نے رواں سال بھی
اگست
طالبان پڑوسیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کریں گے: پاکستانی تجزیہ کار
?️ 17 اگست 2021سچ خبریں:پاکستانی صحافی اور افغان امور کے ماہر ارشد یوسف زئی نے
اگست
افغانستان میں موجود سیاسی بحران جاری، دوحہ میں طالبان اور افغان حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے
?️ 20 جولائی 2021دوحہ (سچ خبریں) افغانستان میں جاری موجود سیاسی بحران کو ختم کرنے
جولائی
امریکہ وینزویلا کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہے: روس
?️ 11 اکتوبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبینزیا نے جمعہ
اکتوبر
اکنامک گلوب میڈیا نے صہیونی سائنسی مراکز کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجائی
?️ 5 جون 2024سچ خبریں: امریکہ میں احتجاجی تحریکوں کے اٹھنے اور پوری دنیا میں اس
جون
اسرائیل عارضی جنگ بندی معاہدوں پر پابند نہیں
?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں:فلسطینی اسیروں اور آزادی کمیٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے اعلان
نومبر