آرمی چیف کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ، ’افغانستان میں ٹی ٹی پی کی آزادانہ سرگرمیوں پر تشویش ہے

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے ژوب میں دہشت گردی کے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی سی ایم ایچ کوئٹہ میں عیادت کی اور پاک فوج کے بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کے لیے دستیاب مواقع پر تشویش ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا جہاں انہیں ژوب میں دہشت گروں کے حملے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور سی ایم ایچ کوئٹہ میں داخل زخمیوں کی عیادت کی اور قوم کے لیے ان کی خدمات اور ان کے عزم کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو بیان میں کہا گیا کہ ’افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع تھی کہ وہ حقیقی معنوں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی روشنی میں کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردوں کی سہولت کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گی‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک اور تشویش ہے، جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ’اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں جن پر پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے مؤثر جواب دیا جائے گا‘۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور مسلح افواج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک ملک سے دہشت گردی کا ناسور مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کوئٹہ گریژن پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ نے چیف آف آرمی اسٹاف کا استقبال کیا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل بلوچستان کے علاقے ژوب میں واقع گیریژن میں دہشت گردوں کے حملے میں 9 فوجی جوان شہید اور جوابی کارروائی میں 5 دہشت مارے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان کے علاقے ژوب کینٹ میں علی الصبح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور تنصیب میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں ڈیوٹی پر موجود جوانوں نے روکا اور فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دہشت گرد چھوٹی جگہ پر محدود ہوگئے۔

کلیئرنس آپریشن کی تکمیل کے بعد جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے مزید 5 جوان بھی شہید ہوگئے اور تعداد 9 ہوگئی جبکہ اس دوران 5 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے پاکستان میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل 2 جولائی 2023 کو بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوگئے تھے جبکہ ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے افغان حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ یقینی بنانا ان (افغان حکام) کی ذمہ داری ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور افغان حکام نے مختلف مواقع پر یہ ذمہ داری قبول کی ہے۔

رواں برس اپریل میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی پاکستان پر بالخصوص خیبر پختونخوا میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان قیادت کے ساتھ اسلام اباد کے اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان پر حملوں میں اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے فروری میں بیان میں کہا تھا کہ کوئی ملک ہمارا دوست نہیں رہ سکتا جو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلقات رکھے گا، افسوس کی بات ہے کہ کچھ پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں موجود عبوری حکومت کو اس طرح کی تنظیموں کو اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اس کی سرزمین استعمال کرکے اس طرح کی سرگرمیاں انجام دیں، اسے چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کے خلاف کارروائی کرے، جب تک ہمسایہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی پاکستان میں سیکیورٹی رسک رہے گا۔

مشہور خبریں۔

جنگ میں نیتن یاہو کے مقاصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا: معاریو

?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں جنگ کے تین ماہ سے زیادہ ہونے

فواد چوہدری کا  مریم نواز کو اہم مشورہ

?️ 18 فروری 2022لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مسلم

شیریں مزاری کا نام ای سی ایل میں نہیں

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹر

زلمی بخاری کا حکومت پر اپنی ٹیم کے اراکین کو اغوا کرنے کا الزام

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلمی بخاری نے الزام لگایا

ملک بھر میں سخت سیکیورٹی میں چہلم کے جلوس روایتی راستوں پر رواں دواں

?️ 17 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)ملک بھر میں آج حضرت امام حسینؑ اور ان

ہم مسجد اقصیٰ میں یہودی خزعبلات کو پھانسی کی اجازت نہیں دیں گے: ہنیہ

?️ 22 مئی 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس نے آج اتوار کو

جولانی اور نیتن یاہو کی واشنگٹن میں ملاقات کا امکان

?️ 27 اگست 2025اسرائیلی اخبار معاریو نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ

گیس کی قیمتوں پر یورپ نے روس کے سامنے ہتھیار ڈالے

?️ 25 مئی 2022سچ خبریں:  واشنگٹن پوسٹ نے منگل کو رپورٹ کیا کہ یورپی توانائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے