آرمی چیف سے امریکی وزیر دفاع کا ٹیلیفونک رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور و علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، گفتگو کے دوران دونوں نے باہمی دلچسپی کے امور اور حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے گزشتہ روز جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سیکرٹری آف ڈیفنس لائیڈ جے آسٹن نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے فون پر گفتگو کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران  ر امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن اور جنرل عاصم منیر نے باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) نے تاحال اس گفتگو کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے بیان میں اس گفتگو کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں گزشتہ برس کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کیا جا چکا ہے جس کے بعد سے ملک بھر میں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

گزشتہ ماہ 6 ستمبر کو ضلع چترال سے عسکریت پسندوں کو پسپا کرنے کے لیے کیے گئے آپریشن میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور 16 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

’پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز‘ نامی تھنک ٹینک کی جانب سے جولائی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 389 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان کے ساتھ ایسی حکمت عملیوں پر کام کرنے کی پیشکش کی ہے جو ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر طور پر مدد کر سکیں۔

میتھیو ملر نے کہا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے کہ ہم ہر قسم کی پُرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر طریقے سے مدد کر سکیں۔

گزشتہ ماہ سینیئر امریکی سفارتکار نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو علاقائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا پاکستان، افغانستان میں امریکی مقاصد کے حصول میں معاون ہے یا ایک رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹام ویسٹ نے کہا کہ میں متوازن انداز میں یہ کہوں گا کہ وہ معاون و مددگار ہے، جہاں تک سیکیورٹی کے مسائل و معاملات کی بات ہے تو وہ یقینی طور پر پارٹنر ہیں، نقل مکانی سے متعلق مسائل کی بات کی جائے تو وہ مسائل حل کرنے میں معاون ہیں، جب پناہ گزینوں سے متعلق معاملات کی بات آتی ہے تو بھی وہ ہمارے لیے مددگار ثابت ہوئے ہیں، ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے توازن کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ معاون ہیں۔

مشہور خبریں۔

البوسعیدی آبنائے ہرمز کے بارے میں عراقچی کے ساتھ بات چیت سے مطمئن

?️ 27 اپریل 2026 سچ خبریں:بدر البوسعیدی، وزیر امور خارجہ عمان، نے سوشل میڈیا پلیٹ

صیہونیوں کا ریڈ کراس کے عملے پر حملہ

?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں:صہیونی آبادکاروں نے مغربی کنارے میں ریڈ کراس کے عملے پر

پاکستانی حکام کا ایران سے گیس پائپ لائن کی تکمیل پر زور

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:بدھ کو پاکستانی صنعتکاروں کے ساتھ ملاقات میں قریشی نے اس

کیا غزہ پر حملہ اسرائیل کی ڈیٹرنٹ طاقت کو بحال کر سکے گا،صیہونی میڈیا کا کیا کہنا ہے؟

?️ 19 جنوری 2024سچ خبریں: صیہونی وزیر اعظم کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی داخلی تنقید

امریکہ اور مغرب کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای

فن لینڈ میں موسم خزاں کے آغاز کا انوکھا انداز

?️ 3 اکتوبر 2023سچ خبریں:فن لینڈ کے دائیں بازو کے وزیر اعظم پیٹری آرپو کی

انتالیہ اجلاس اور شام اور غزہ کے بارے میں انکشافات

?️ 14 اپریل 2025سچ خبریں: پروفیسر جیفری سیکس، ایک امریکی پروفیسر برائے سیاسیات اور اقوام متحدہ

ترک تجزیہ کار کے مطابق انقرہ کی اسرائیل فہمی

?️ 20 جون 2025سچ خبریں: ترکی کے معروف تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ اردوغان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے