آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا

?️

کراچی: (سچ خبریں) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 25-2024 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا ہے جو اکتوبر میں دی گئی 3.2 فیصد کی پیش گوئی سے کم ہے یہ کمی مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیوں کی کمزوری اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث کی گئی ہے.

آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ”ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی“کے تحت پہلی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد رہی پہلی ششماہی میں ترقی کی رفتار سست رہی اور پہلی سہ ماہی میں شرح سالانہ 1.3 فیصد جبکہ دوسری سہ ماہی میں1.7 فیصد رہی جو اہم خریف فصلوں کی کم پیداوار اور صنعتی شعبے کی مسلسل سستی روی کو ظاہر کرتی ہے.

بزنس ریکارڈر کے مطابق رواں مالی سال میں موجودہ اخراجات جی ڈی پی کے 18.9 فیصد کے برابر رہے جو کہ آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق تھے اگرچہ شرح نمو کی پیش گوئی کم کی گئی ہے لیکن موجودہ اخراجات کی نئی پیش گوئی بھی اتنی ہی رکھی گئی ہے تاہم آئندہ مالی سال میں یہ اخراجات جی ڈی پی کے 17.8 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے جس کا انحصار 3.6 فیصد شرح نمو کے حصول پر ہوگا.

پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کو اس سال فنڈ پروگرام کے تحت جی ڈی پی کے 2.3 فیصد کے برابر رکھا گیا تھا لیکن نئی پیش گوئی میں اسے 2.5 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے تاہم پلاننگ کمیشن کی جانب سے فنڈز کے اجرا کی رفتار اس اضافے کو عملی شکل دینے کی تائید نہیں کرتی دفاعی اخراجات اس سال بجٹ اور اجرا دونوں کی صورت میں جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے برابر رہے جبکہ اگلے مالی سال کے لیے ان کی پیش گوئی جی ڈی پی کے 1.9 فیصد کے طور پر کی گئی ہے.

نجکاری کی مد میں محصولات رواں سال اور آئندہ چار سالوں کے لیے صفر فیصد جی ڈی پی پر رکھے گئے ہیں اہم فصلوں کی پیداوار مالی سال کی پہلی ششماہی میں مایوس کن رہی جبکہ صنعتی سرگرمیاں بھی سست رہیں تاہم حالیہ بلند اشاریوں کی بنیاد پر مالی سال 2025 کی دوسری ششماہی اور اس کے بعد کے عرصے میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے. آئی ایم ایف کے مطابق مارچ میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر کم ہو کر 0.7 فیصد رہ گئی جس کی بڑی وجہ سخت مالی و معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی رہی تاہم بنیادی مہنگائی اب بھی تقریباً 9 فیصد کی بلند سطح پر ہے رواں مالی سال 2025 کے لیے مہنگائی کی پیش گوئی کو کم کیا گیا ہے اگرچہ آئندہ مہینوں میں اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جس کی وجہ پچھلے سال کے کم اعداد و شمار کا اثر ہے اگر مالیاتی پالیسی سخت رہی تو مالی سال 2026 کے دوران مہنگائی کو ہدفی دائرہ (5 سے 7 فیصد) میں واپس لانے کی امید ہے.

مالی سال 2025 کے لیے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ تقریباً 0.2 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے جس کی وجہ برآمدات میں استحکام اور ترسیلات زر میں بہتری ہے مستحکم میکرو اکنامک اور زرمبادلہ کی صورتحال نے ترسیلات زر کو رسمی ذرائع سے بڑھاوا دیا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت میںکرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ معمولی طور پر بڑھ کر جی ڈی پی کے تقریباً 1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ درآمدات میں اضافہ متوقع ہے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کی امید ہے جسے کثیر فریقی اور دو طرفہ قرض دہندگان کی جانب سے فراہم کردہ مالی امداد اور آر ایس ایف کے تحت ممکنہ 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے تقویت ملے گی.

پروگرام کے دوران بیرونی کمرشل فنانسنگ تک رسائی محدود رہنے کی توقع ہے تاہم مالی سال 2026 میں چھوٹے پیمانے پر ”پانڈا بانڈ“ کے اجرا کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027 میں یوروبانڈ/گلوبل سکوک مارکیٹ میں تدریجی واپسی کی امید ہے بشرطیکہ پالیسی میں اعتماد بحال ہوآئی ایم ایف نے مالی سال 25-2024 کے لیے برآمدات کی پیش گوئی کم کر کے 31.305 ارب ڈالر کر دی ہے جو پہلے 31.751 ارب ڈالر تھی جبکہ درآمدات کی نئی پیش گوئی 57.634 ارب ڈالر ہے، جو پہلے 57.180 ارب ڈالر تھی.

مشہور خبریں۔

پی آئی اے نے مسافروں کو خوشخبری سنا دی

?️ 8 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پی آئی اے نے مسافروں کو خوشخبری سنا

لبنان اسرائیل معاہدے کے خلاف ہزاروں لبنانیوں کا بیروت میں احتجاج

?️ 27 جون 2026سچ خبریں:ہزاروں لبنانی شہریوں نے بیروت اور دیگر علاقوں میں اسرائیل کے

صہیونی وزیرنے غزہ کے علاقے پر صیہونی بستیوں کے قیام کا کھلم کھلا اعلان کیا

?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے وزیر خزانہ بیتزلال اسموٹریچ نے جو فلسطینیوں کے

غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں شدت گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8 افراد شہید 

?️ 27 فروری 2026 صہیونی حکومت نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی

ایف بی آئی سربراہ پر الزامات، میڈیا رپورٹ کے بعد ۲۵۰ ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے امریکی جریدے کے

ایران کے بارے میں ٹرمپ کا نہ ختم ہونے والا وہم

?️ 11 اگست 2026سچ خبریں: امریکی دہشت گرد ریاست کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک

کشمیری آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں

?️ 8 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی نگرانی

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے سینکڑوں ملازمین کو برطرف کر دیا

?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: سٹینفورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ڈونلڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے