?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم نے پاکستان کی جمہوریت پر شب خون مارا ہے اور ایسےخوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے جیسے کوئی کامیابی حاصل کی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بائیکاٹ کرکے اچھا کیا ہے لیکن بہت اچھا ہوتا اگر وہ اس پورے پراسس کا حصہ نہ بنتے، اگر وہ ایسا کرتے تو حکومت کو اس طرح اپنے آپ کو پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے نے آئین کی روح کو متاثر کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ہم مشاورت کر رہے ہیں کہ آئینی ترمیم کے معاملے میں سپریم کورٹ میں کس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں، 1973کا آئین انتہائی مشکل حالات میں بنا تھا، آئینی ترمیم کا مسئلہ کسی پارٹی کا نہیں بلکہ ملک و قوم کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہےکہ عدالتوں میں ویسے ہی انصاف نہیں مل رہا ہے لیکن اب مزید انصاف کو عدالتوں میں یرغمال بنا لیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں دوسرے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اس معاملے میں لوگوں کو مصروف کردیا ہے، تاکہ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں آدھےسے زیادہ وہ لوگ ہیں جو جیتے ہی نہیں ہیں،کل پی ڈی ایم تھری مکمل طور پر فعال نظر آرہی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ نوازشریف کیوں افسردہ نظر آتے ہیں، حکومت جو کام کرتی ہے وہ ان کے گلے پڑتا ہے۔
آئینی ترمیم سے متعلق حافظ نعیم الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ پر قبضہ جمانے کے لیے یہ کارروائی کافی دن سے جاری تھی، پارلیمانی کمیٹی اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ججز کے تقررکا معاملہ دینا افسوسناک ہے۔
واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے کے بعد 21 اکتوبر کی علی الصبح قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے۔
آئینی پیکج سے مشہور 26ویں آئینی ترمیمی بل دراصل قانون سازی ہے جس کا مقصد سپریم کورٹ کے ازخود(سوموٹو) اختیارات لینا، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر کرنا اور اگلے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو دینا ہے۔
گزشتہ ماہ سے حکمران اتحاد آئینی ترامیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں سیاسی جماعتوں سے بھرپور لابنگ کرنے میں مصروف تھا جہاں ان ترامیم میں بنیادی توجہ عدلیہ پر مرکوز تھی۔


مشہور خبریں۔
غزہ کی جنگ نسل کشی تھی، ناکہ فوجی آپریشن
?️ 19 جنوری 2025سچ خبریں: رفح کے میئر نے اتوار کو غزہ کی پٹی میں
جنوری
غزہ کے حوالے سے یمن کا موقف تبدیل نہیں ہو گا
?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں:انصار اللہ کے ترجمان اور یمن کی قومی مذاکراتی کمیٹی کے
دسمبر
ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی چوری کی افواہیں
?️ 18 فروری 2023سچ خبریں:ترکی کے سرکاری میڈیا نے ایک ترک شخص کی گرفتاری کی
فروری
شہباز شریف کی برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت
?️ 21 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات 60
فروری
عراقی پارلیمنٹ غیر ملکی دباؤ کے باوجود حشد الشعبی قانون کی منظوری کے لیے تیار
?️ 19 اگست 2025عراقی پارلیمنٹ غیر ملکی دباؤ کے باوجود حشد الشعبی قانون کی منظوری
اگست
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس بابر ستار کی امریکی شہریت کی خبروں کی تردید
?️ 28 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستار کی امریکی شہریت کی
اپریل
مغربی کنارے میں صہیونیوں کے ہاتھوں 14 فلسطینی گرفتار
?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:صہیونی غاصبوں نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں مزید 14
اپریل
بھارت سے 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا، وزیراعظم
?️ 22 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان
مئی