گاڑیوں کو بھرپور توانائی بخشنے ولا ’’پاور پیسٹ‘‘ ہو گیا تیار

پاور پیسٹ

?️

برلن{سچ خبریں} دنیا کے بیشتر ’’ایندھنی ذخیرہ خانے‘‘ (فیول سیلز) اسی اصول پر کام کرتے ہیں لیکن ان میں ہائیڈروجن کو خصوصی سلنڈروں میں، کرہ ہوائی سے 700 گنا زیادہ دباؤ پر محفوظ رکھنا پڑتا ہے جو نہ صرف بہت مشکل بلکہ انتہائی مہنگا سودا بھی ہے۔ جرمنی میں فرانہافر انسٹی ٹیوٹ نے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کےلیے ٹوتھ پیسٹ جیسا سرمئی پاور پیسٹ ایجاد کرلیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ روایتی لیتھیم بیٹری کے مقابلے میں دس گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے آپس میں ملنے سے پانی بنتا ہے اور توانائی خارج ہوتی ہے جسے بجلی میں تبدیل کرکے مختلف کام لیے جاسکتے ہیں۔

ڈریسڈن، جرمنی میں ’’فرانہافر انسٹی ٹیوٹ فار مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی اینڈ ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ کے ماہرین نے ’’پاور پیسٹ‘‘ کی شکل میں یہ مسئلہ حل کیا ہے۔

پاور پیسٹ کو عام دباؤ اور درجہ حرارت پر بہ آسانی محفوظ کیا جاسکتا ہے، جس کی بدولت یہ بڑی گاڑیوں کے علاوہ آلودگی سے پاک موٹرسائیکلوں تک میں استعمال ہونے کے قابل ہے۔

علاوہ ازیں، یہ 250 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی تک کو برداشت کرتے ہوئے قابلِ استعمال حالت میں رہ سکتا ہے۔

یہ بنیادی طور پر ’’میگنیشیم ہائیڈرائیڈ‘‘ کہلانے والا ایک کیمیائی مرکب ہے جسے 350 ڈگری سینٹی گریڈ، اور کرہ ہوائی سے 5 تا 6 گنا زیادہ دباؤ پر (ہائیڈروجن اور میگنیشیم کو آپس میں ملا کر) تیار کیا جاتا ہے۔

آخری مرحلے پر اس میں ایک دھاتی نمک اور ’’ایسٹر‘‘ نامی ایک نامیاتی مرکب (آرگینک کیمیکل) شامل کرکے اسے سرمئی ٹوتھ پیسٹ جیسی حتمی شکل دی جاتی ہے۔

پاور پیسٹ سے توانائی حاصل کرنے کےلیے ایک خاص نظام کے تحت اسے ایک چیمبر (خانے) میں پہنچا کر پانی کے ساتھ اس کا کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) کروایا جاتا ہے جس سے ہائیڈروجن گیس خارج ہوتی ہے۔

یہاں سے یہ ہائیڈروجن گیس ایک فیول سیل میں پہنچا دی جاتی ہے جہاں اسے آکسیجن کے ساتھ ملا کر پانی بنایا جاتا ہے جس سے حرارت کی شکل میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ پھر اسی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرکے استعمال کرلیا جاتا ہے۔

اب تک پاور پیسٹ کو تجرباتی طور پر چھوٹی موٹرسائیکلیں چلانے میں استعمال کیا جاچکا ہے۔

فرانہافر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس سال کے اختتام تک پاور پیسٹ کی تجارتی پیداوار شروع کردی جائے گی اور یہ سلنڈروں کی شکل میں دستیاب ہوگا، جو موجودہ پیٹرول پمپس پر رکھوائے جائیں گے۔

پاور پیسٹ سلنڈر خالی ہونے پر اسے پیٹرول پمپ جا کر واپس کیا جاسکے گا اور اس کے بدلے ’’بھرا ہوا‘‘ سلنڈر خریدا جاسکے گا۔

اگرچہ فرانہافر انسٹی ٹیوٹ نے صاف ستھری توانائی کے حوالے سے ’’پاور پیسٹ‘‘ کو ایک انقلابی پیشرفت قرار دیا ہے لیکن بعض مبصرین کو اس دعوے پر اعتراض بھی ہے۔

مثلاً امریکی ویب سائٹ ’’نیو اٹلس‘‘ کی ایک خبر میں اعتراض کیا گیا ہے کہ پاور پیسٹ کی تیاری پر کتنی توانائی صرف ہوگی اور کتنے اخراجات آئیں گے؟ اس بارے میں فرانہافر انسٹی ٹیوٹ نے کچھ نہیں بتایا۔

علاوہ ازیں، اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ میگنیشیم ہائیڈرائیڈ، ایسٹر اور دھاتی نمک کی تیاری سے خارج ہونے والی آلودگی پر کیسے قابو پایا جائے گا؛ جبکہ یہ معاملہ بھی واضح نہیں کہ استعمال شدہ پاور پیسٹ کو کس طرح تلف کیا جائے گا؟

تمام اعتراضات ایک طرف، لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ ہائیڈروجن کو محفوظ کرنے کا عمل آسان بنانے میں ’’پاور پیسٹ‘‘ کا تصور بلاشبہ ایک اچھوتی اور منفرد پیشرفت ہے۔

مشہور خبریں۔

ہندوستان اور جمہوریت

?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: بھارت میں انسانی حقوق مخالف رجحانات بڑھ رہے ہیں اور

اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کی قطر کے وزیراعظم کے اعزاز میں ضیافت

?️ 13 ستمبر 2025اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کی قطر کے وزیراعظم کے اعزاز میں

سید حسن نصر اللہ کی تقریر کے اہم نکات

?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے فلسطینی مزاحمت اور صیہونی حکومت

غزہ میں 75 ہزار سے زیادہ بچے یتیم ہو گئے، پانی کی شدید قلت کا بحران 

?️ 26 اگست 2026سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی کی میونسپلٹیوں نے پانی کے بحران

ترکی میں موساد کا جاسوس گرفتار

?️ 14 جون 2024سچ خبریں: ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی (MET) نے حالیہ دنوں میں موساد

وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات میں ایک اور چیلنج

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی بینک کے چیئرمین کی

انتخابات کے حوالے سے وزیر اعظم کا بیان

?️ 26 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے