ڈپریشن میں زیادہ کھانے کی وجوہات کیا ہیں؟

ڈپریشن میں زیادہ کھانے کی وجوہات کیا ہیں؟

?️

لندن (سچ خبریں) ماہرین کے خیال  کے مطابق انسان جب  بوریت، ذہنی دباؤ، بیچینی اور تھکن وغیرہ محسوس کرتا ہے تو وہ  اکثر جذباتی ہوکر بہت کچھ کھانے لگ جاتا ہے اور اس دوران وہ کچھ  غیر ضروری اشیاء کھانے،پینے لگتا ہے ،لاک ڈاؤن میں اس کا زیادہ مشاہدہ کیا گیا ہے۔

برِٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن کے سروے کے مطابق ایسا خاص طور پر لاک ڈاؤن کے دنوں میں زیادہ ہوا ہے کہ ہم ذہنی دباؤ میں بہت سی ایسی چیزیں کھا رہے ہیں جو صحت کے اعتبار سے عام دنوں میں کھائی جانے والی چیزوں سے کم اچھی ہیں۔ذہنی دباؤ انسان کی مشکل صورتحال حالات میں زیادہ کھانے کی اہم وجہ ہو سکتی ہے۔ برطانوی ڈاکٹر عائشہ محمد کہتی ہیں کہ ‘ہمارا جسم ہمارے پیچھے شیر کے دوڑنے اور دفترئ کام کی ڈیڈلائن کے نتیجے میں دباؤ میں فرق کرنا نہیں جانتا ہے۔

ڈائیٹیشیئن سوفی میڈلن کے مطابق ‘جب آپ کسی قسم کے ذہنی دباؤ میں پوتے ہیں تو آپ کچھ ایسا کھانا چاہتے ہیں جو آسانی سے ہضم ہو جائے اور جلدی سے آپ کو طاقت کا احساس دلائے تاکہ آپ لڑ یا بھاگ سکیں۔۔۔ اور ایسی چھیزیں ہیں شوگر یا کاربوہائڈریٹس’۔

اس سروے میں شامل تقریباً دو تہائی برطانوی افراد کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کے دنوں میں ان کے غیر ضروری کھانے پینے کی سب سے بڑی وجہ وہ بوریت کو سمجھتے ہیں۔ محققین بوریت میں کھانے کو راہ فرار سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ بوریت میں بہت سارا صحت کے لیے مفید کھانا بھی کھایا جا سکتا ہے اگر وہ ذائقے میں اچھا ہو۔

اگر کبھی ہماری نیند پوری نا ہو رہی ہو تو بھی محققین کے مطابق ہم ہر روز تقریباً چار سو اضافی کیلوریز کھاتے ہیں۔ کیوں کہ ہم جاگتے رہنے کے لیے ایسی چیزیں کھاتے پیتے رہتے ہیں جو جلدی سے طوانائی دیتی ہوں، مثال کے طور پر کاربوہائیڈریٹز۔ میڈلن بتاتی ہیں کہ ‘نیند ہمارے بھوک کے ہارمونز کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

کھانے کے بعد جسم میں ڈوپامین بنتا ہے، یہ وہ دماغی کیمیکل ہے جو خوشی کا احساس دلاتا ہے۔ کھانے پینے کی چند چیزیں، خاص طور پر وہ جن میں چربی یا شکر زیادہ ہوتی ہے، جسم میں معمول سے زیادہ ڈوپامین پیدا کرتی ہیں۔ اور اسی کو ‘دا پلیژر ٹریپ’ کہتے ہیں، یعنی خوشی کے احساس والا جال’۔ ایسا کہنا ہے ‘دا پلیژر ٹریپ: ماسٹرنگ دا ہیڈن فورس دیٹ انڈرمائنز ہیلتھ اینڈ ہیپینس’ نامی کتاب کے مصنف اور ماہر نفسیات ڈاکٹڑ ڈگلس لزلے کا ۔

مشہور خبریں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف امریکی بائیکاٹ: غزہ مقدمے کا سیاسی انتقام؟

?️ 26 نومبر 2025 جنوبی افریقہ کے خلاف امریکی بائیکاٹ: غزہ مقدمے کا سیاسی انتقام؟

لیبیا کے انتخابات میں خلیفہ حفتر اور قذافی صیہونی حکومت کے دو اہم آپشن

?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:خلیفہ حفتر اور قذافی نے تل ابیب کے حکام کو صیہونی

سعودی بادشاہ اور ولی عہد کو ایرانی صدر کے 2 خطوط میں کیا کہا گیا ؟

?️ 17 ستمبر 2023سچ خبریں:سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واس نے لکھا ہے

کل رات پاکستان کے ہر شہر کے در و دیوار امریکہ مردہ باد سے گونج اٹھے

?️ 11 اپریل 2022(سچ خبریں)ملک بھر اور باہر ممالک میں عوام سڑکوں پر، در و

امریکہ اور سعودی کا مشترکہ بیان؛ تیل کے بدلے ریاض کو فوجی تعاون

?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں:   امریکی صدر جو بائیڈن کی جدہ کے دورے کے دوران

بھارتی ایئرلائن کی اسرائیل کے لیے پروازوں کی معطلی میں ایک ماہ کی توسیع

?️ 20 مئی 2025 سچ خبریں:یمنی میزائل حملوں کے بعد بھارتی ایئرلائن سمیت یورپی فضائی

طالبان نے افغانستان کے ایک اور اہم علاقے پر قبضہ کرلیا، افغان فوج اور طالبان کے مابین شدید جنگ جاری

?️ 13 جولائی 2021کابل (سچ خبریں) طالبان نے افغانستان کے ایک اور اہم علاقے غزنی

انتظامیہ کی اجازت کے بغیر اپوزیشن  کا جلسہ جاری

?️ 4 جولائی 2021سوات(سچ خبریں)ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے برعکس پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا سوات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے