ٹیکنالوجی کی دنیا میں کون سا انقلاب آنے والا ہے؟

کمپیوٹنگ

?️

سچ خبریں: کمپیوٹنگ کی دنیا میں ڈی این اے کمپیوٹر ایک ایسی نئی جہت ہے جس میں مالیکیولر بائیولوجی، بائیو کیمسٹری اور ڈی این اے کی مدد سے ہارڈ ویئر تیار کیا جاتا ہے اور ڈی این اے خود کو سرکٹس میں جمع کرکے کمپیوٹنگ انجام دیتے ہیں۔

چین کی شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی میں فی وانگ اور ان کے ساتھی کے عملی تجربے میں ثابت ہوگیا کہ ایک مائع کمپیوٹر ڈی این اے کے اسٹرینڈز کا استعمال کرتے ہوئے 100 بلین سے زیادہ مختلف سادہ پروگرام چلا سکتا ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ جب آپ روایتی یعنی ڈیجیٹل کمپیوٹر پر کمانڈ داخل کرتے ہیں، تو یہ الیکٹرانوں کو سلیکون چپ پر مخصوص راستے سے گزرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ یہ سرکٹ کنفیگریشنز ہر ایک مختلف ریاضیاتی آپریشنز سے مطابقت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ پر سائبر حملے کون کر رہا ہے؟

لیکن بائیو کیمسٹری اور مالیکیولر بائیولوجی کی مدد سے بنے کمپیوٹر میں ڈی این اے مالیکیول تاروں کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان تاروں کو مخصوص طریقوں سے ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہیں جس سے ورسٹائل بائیولوجیکل کمپیوٹر سرکٹس بن جاتا ہے۔

ان سرکٹس اور وائرنگ کو ڈی این اے سے بدلنے کے لیے جیاؤ ٹونگ یونی ورسٹی کے وانگ اور ان کی ٹیم نے ڈی این اے کے چھوٹے حصوں کو بڑے ڈھانچے ڈھال کر ملایا جو سرکٹ کے اجزاء، جیسے تاروں، یا ان تاروں کو مختلف کنفیگریشنز بنانے کے لیے کام کرسکے۔

وانگ اور ان کی ٹیم نے ڈی این اے اسٹرینڈز اور بفر فلوئڈ کے ساتھ ٹیوبوں کو بھرا اور کیمیائی رد عمل کے ذریعے بڑے مالیکیولز میں ملا کر انہیں ایک دوسرے سے جوڑدیا۔ اس طرح یہ عظیم کارنامہ سر انجام پایا۔

محققین نے تمام مالیکیولز کو فلوروسینس مارکر سے بھی لیس کیا تاکہ وہ اس بات پر نظر رکھ سکیں کہ سرکٹ کیا کر رہا ہے اس کی بنیاد پر اس کے حصے کیسے چمک رہے ہیں۔

وانگ اور ان کی ٹیم نے اس تجربے میں 500 ڈی این اے اسٹرینڈز پر مشتمل تین ڈی پی جی اے کو جوڑ کر ایک سرکٹ بنایا جو چوکور مساوات کو حل کرتا ہے۔ اسی طرح مربع مساواتوں کے لیے بھی ایک سرکٹ بنایا۔

ان سرکٹس میں انھوں نے ایک مخصوص شکل کے مالیکیولز اور ایک نمبر کو شامل کیا جس نے ان مالیکیولز کے ساتھ کیمیائی عمل میں حصہ لیا۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں حرکت کرنے والے الیکٹران کے مشابہ سرکٹ بن گئے۔

ہر سرکٹ کے نتائج آخری رد عمل سے پیدا ہونے والے مالیکیول تھے۔ محققین ان کی فلوروسینٹ چمک کی پیمائش کرکے انہیں پڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عرب ممالک اپنے مخالفین کو دبانے کے لیئے اسرائیلی جاسوسی نطام کا استعمال کرتے ہیں، اہم انکشاف

ڈی این اے کمپیوٹر آپ کو بتا سکتا ہے کہ آیا آپ کا پینے کا پانی آلودہ ہے۔ یہ بیماریوں کا ڈیٹا رکھ سکتے ہیں اور بیماریوں کی جلد تشخیص میں کار آمد ہوسکتے ہیں۔ یہ کمپیوٹر صحت و تحقیق کے شعبے میں بھی انقلاب برپا کردیں گے۔

یاد رہے کہ پہلا ڈی این اے کمپیوٹر 1997 میں یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے کمپیوٹر سائنس دان لیونارڈ اڈیلمین نے ایجاد کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

9 مئی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں، عمر ایوب

?️ 3 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کا

چوری کا پیسے استعمال کر کے لوگوں کو خریدنے کی کوشش کی گئی:فواد چوہدری

?️ 27 مارچ 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے میڈیا

سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع، منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وزیراعظم

?️ 1 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک-چین اقتصادی

امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں؛ امریکی میگزین کا انکشاف

?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی جریدے The American Conservative کے مطابق ایران کے خلاف جنگ

اردن: بن گور کا مسجد الاقصیٰ پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے

?️ 11 جون 2025سچ خبریں: اردن کی وزارت خارجہ نے صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی

پاکستان میں بولی وڈ فلموں پر بھارت نے پابندی لگا رکھی ہے، فلم ساز ابو علیحہ

?️ 16 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) مقبول فلم ساز ابو علیحہ نے دعویٰ کیا

غزہ اور لبنان میں اسرائیل کا عظیم تعطل

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی، جنہوں نے لبنان اور غزہ میں مکمل فتح حاصل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے