صیہونیوں کا شام میں مداخلت کا نیا بہانہ

صیہونیوں کا شام میں مداخلت کا نیا بہانہ

?️

سچ خبریں:صیہونی حکومت نے شام میں دروزی اقلیت کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کیے، لیکن تجزیے بتاتے ہیں کہ یہ حملے دراصل حکومت جولانی کے ساتھ خفیہ روابط کو چھپانے اور شام میں صہیونی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہیں۔

مبصرین کے مطابق، اسرائیل کے حالیہ حملے جنہیں دروزی اقلیت کی حفاظت کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، درحقیقت شام میں جاری صہیونی منصوبوں کی پردہ پوشی کا ایک حربہ ہیں۔ یہ حملے اس تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہیں کہ صہیونی حکومت اور جولانی انتظامیہ کے درمیان دشمنی موجود ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
صہیونی وزیر جنگ اسرائیل کاتس نے یہ دعویٰ کیا کہ تل ابیب نے شام میں حکومت جولانی کے اہداف کو نشانہ بنا کر ایک واضح انتباہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ شام میں دروزیوں کو نقصان پہنچے۔
صیہونی حکومت شام میں اپنی جارحیت اور قبضے کو اقلیتوں کی حمایت جیسے دعووں سے جواز فراہم کر رہی ہے۔ خاص طور پر دروزیوں کے معاملے میں یہ دعویٰ اس وقت کیا گیا ہے جب اسرائیل جنوبی شام میں علاقوں کو محفوظ زون کے نام پر کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیے بتاتے ہیں کہ جولانی حکومت جو ایک سازش کے تحت اسرائیل، امریکہ، ترکی اور عرب ریاستوں کی پشت پناہی سے دمشق پر مسلط کی گئی تھی، نہ صرف صہیونی حملوں پر خاموش رہی، بلکہ بعض مواقع پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں بھی کیں۔ عبری میڈیا رپورٹس کے مطابق، جولانی نے جولان کی مقبوضہ پٹی پر بھی اپنی دعوے داری سے دستبردار ہونے کا عندیہ دیا ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔
 لبنان میں دروزیوں کے رہنما ولید جنبلاط نے صیہونی عزائم کے حوالے سے بارہا خبردار کیا ہے، انہوں نے شام میں موجود دروزیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صہیونی سازشوں اور مشکوک اقدامات کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔
قابل غور ہے کہ امریکہ نے کھلے الفاظ میں شام پر سے پابندیاں ختم کرنے کی شرط یہ رکھی ہے کہ جولانی حکومت بلا شرط اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے۔ یہ تقاضا دراصل صہیونی مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے دباؤ کا ایک طریقہ ہے۔
تمام شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کے حالیہ حملے دروزیوں کی حمایت کے بہانے کیے جا رہے ہیں تاکہ صہیونی-جولانی تعلقات کی حقیقت عوام سے چھپائی جا سکے،شام میں جارحیت اور قبضے کو جاری رکھنے کا جواز پیدا ہو، یہ تاثر دیا جائے کہ اسرائیل اور جولانی انتظامیہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جبکہ وہ خفیہ طور پر تعاون کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیا ٹرمپ خفیہ جوہری معلومات سعودی عرب کو فروخت کرنے والے تھے؟

?️ 17 اگست 2022سچ خبریں:حال ہی میں ٹرمپ کے سینئر مشیر اور داماد جیرڈ کشنر

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کا لبنان دھماکوں کے بارے میں بیان

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا

انصاراللہ ڈرونز کے خلاف پیٹریاٹ $1 ملین کے نظام کی شکست

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:  امریکہ میں قائم سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS)

خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتائج کے بارے میں شام کا انتباہ

?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: بیروت میں صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں

چین نے طالبان کو اہم پیشکش کردی

?️ 14 جولائی 2021بیجنگ (سچ خبریں)  چین نے طالبان کو اہم پیشکش کرتے ہوئے کہا

شام اور فلسطین کو صیہونی قبضے اور جارحیت کا سامنا ہے:شامی وزیر خارجہ

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ نے فلسطینی تحریک فتح کے وفد سے

سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے والے ارکان اسمبلی کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصل

?️ 7 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف قومی

سی این این پر مقدمہ کروں گا: ٹرمپ

?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کی جانب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے