صہیونی حکومت کے بھاری اسلحہ جاتی سرمایہ کاری منصوبے کا انکشاف

صہیونی

?️

سچ خبریں:صہیونی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب آئندہ دس برسوں میں اسلحہ جاتی شعبے میں 350 ارب شیکل کی سرمایہ کاری کرے گا تاکہ امریکہ اور مغربی ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے۔

صہیونی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق قابض حکومت کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک فوجی تربیتی دورے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب آئندہ دس برسوں کے دوران اسلحہ جاتی شعبے میں 350 ارب شیکل کی خطیر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی اسلحہ سازی کے انجینئرز کے تربیتی مراکز کو شدید نقصان

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو اس منصوبے کو ایسے وقت میں پیش کر رہے ہیں جب وہ اسرائیل کے اپنے اتحادیوں، خصوصاً امریکہ اور مغربی ممالک، پر تقریباً مکمل اسلحہ جاتی انحصار ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، حالانکہ اس سے قبل بھی وہ اسرائیل کو ایک نئی اسپارٹا میں تبدیل کرنے جیسے خیالی بیانات دے چکے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز بنیامین نیتن یاہو نے پائلٹ تربیتی کورس کی گریجویشن تقریب میں اعلان کیا کہ اسرائیل آئندہ ایک دہائی کے دوران آزاد اسلحہ جاتی نظاموں کی ترقی اور بیرونی انحصار میں کمی کے لیے 350 ارب شیکل خرچ کرے گا۔

انہوں نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند ہفتے قبل وزیرِ جنگ، وزیرِ خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگلے دس برسوں میں اسرائیل کے لیے ایک خودمختار اسلحہ جاتی صنعت کے قیام پر 350 ارب شیکل مختص کیے جائیں گے۔ ان کے بقول، ہم ہر چیز میں، حتیٰ کہ اپنے دوستوں پر بھی، انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فضائی اور خلائی صنعتوں میں بہترین دماغ پوری سنجیدگی سے ایسے ہتھیار تیار کرنے میں مصروف ہیں جو مستقبل کی جنگوں میں اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ضروری وسائل کے ذخیرے کو جاری رکھیں گے اور ساتھ ہی خود مختار طور پر مسلح ہونے کی کوشش کریں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ واقعی کوئی مکمل طور پر آزاد ملک وجود رکھتا ہے یا نہیں، لیکن ہم حتیٰ الامکان اپنے ہتھیار اسرائیل کے اندر تیار کرنے کی کوشش کریں گے، جس میں بعض فضائی پلیٹ فارم بھی شامل ہوں گے۔

معاریو نے رپورٹ کے ایک اور حصے میں یاد دلایا ہے کہ نیتن یاہو کے یہ بیانات اس تقریر کے چند ماہ بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے مبالغہ آمیز انداز میں اسرائیل کو ایک سپر اسپارٹا قرار دیا تھا۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر بھی کہا تھا کہ ہمیں ایسی معیشت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا جو خود کفالت کی خصوصیات رکھتی ہو۔ میں آزاد منڈی کا حامی ہوں، لیکن بقا کے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ سب کچھ خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھیں جو ہماری سلامتی کے لیے لازم ہے، خاص طور پر فوجی صنعتوں میں۔ ان کے بقول، ہم آتنہ اور اسپارٹا ہیں، یا شاید ایک سپر اسپارٹا، اور ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کا تل ابیب میں صیہونی اسلحہ ساز تحقیقی مرکز پر میزائل حملہ

اس وقت نیتن یاہو کے ان بیانات پر شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے بعد وزیرِاعظم نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اپنے دعووں میں ترمیم کی اور اعتراف کیا تھا کہ ہمیں مغربی یورپی ممالک سے درآمد ہونے والے ہتھیاروں کے حوالے سے مخصوص مشکلات کا سامنا ہے اور ہم ان پابندیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ ماضی میں ایک فوجی پابندی کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ عربوں کو تعلقات کی بحالی کے جال میں پھنسا رہا ہے؛ عطوان کا انتباہ

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی

امریکہ کو روسی قومی مفادات کا احترام کرنا چاہیے:روسی صدر

?️ 18 مئی 2025 سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے زور دیا ہے کہ امریکہ

حماس کا اسرائیل کے خطرناک منصوبوں پر انتباہ

?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں:حماس نے اسرائیل کے ایک 13 منزلہ عمارت مسمار کرنے کو

مزید تحقیقات کے لیے فرانسیسی وزیر خارجہ کا ترکی کا دورہ

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:      فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ

پاکستان پُرامن اور مستحکم ایران کا خواہاں، قیام امن کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا

?️ 14 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان پُرامن اور مستحکم ایران کا خواہاں، قیام

حماس کو غیر مسلح کرنے کی ٹرمپ کی چال؛ امریکی ویب سائٹ کی زبانی

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں:امریکی خبری ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت

عراق کے صوبہ الانبار میں داعش کے خفیہ ٹھکانے تباہ

?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ الانبار کے صحرائی علاقوں میں

اسرائیل نے کچھ وجوہات کی بنا پر اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر کیے دستخط

?️ 2 نومبر 2021سچ خبریں: صہیونی تجزیہ کار روجیل الور نے عبرانی زبان کے اخبار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے