?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی متنازع اقدام اٹھاتے ہوئے اس ملک کی وزارتِ تعلیم کو ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے، یہ اقدام جہاں تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کی سخت مخالفت کا سبب بنا ہے، وہیں ریپبلکن پارٹی اور دائیں بازو کے حلقوں میں اس کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی منطق: کم خرچ، بہتر تعلیم
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزارتِ تعلیم ایک غیر مؤثر اور مہنگا ادارہ ہے جو تعلیم کی ترقی میں ناکام رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی بجائے ریاستی حکومتوں کو منتقل کر دی جائے تاکہ تعلیمی نظام بہتر ہو سکے۔
یاد رہے کہ امریکی وزارتِ تعلیم کا قیام 1980 میں ہوا تھا اور اس کا بنیادی ہدف تعلیمی برابری اور اعلیٰ معیار کو فروغ دینا تھا۔ اس وقت ملک میں 49.6 ملین سے زائد طلبہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے حالیہ اقدام کو پروجیکٹ 2025 کے ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد حکومت کی تنظیم نو اور وفاقی اداروں کا دائرہ اختیار محدود کرنا ہے۔
مخالفت اور خدشات: نظامِ تعلیم کو زوال کا سامنا
بیشتر ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ وزارتِ تعلیم کی تحلیل سے خاص طور پر غریب، دیہی علاقوں اور معذور بچوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اقدام کلاسوں کے حجم میں اضافہ، خصوصی تعلیم کی خدمات میں کمی اور طلبہ کے شہری حقوق کی حفاظت میں خلل ڈالے گا۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ وزارت کے خاتمے کے باعث 1.8 لاکھ تدریسی اسامیوں کے ختم ہونے اور تقریباً 28 لاکھ طلبہ پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
مزید یہ کہ معذور طلبہ کو فراہم کی جانے والی 15 ارب ڈالر مالیت کی سپیشل ایجوکیشن کی اسکیمیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
تبعیض کا خدشہ اور وکالت
انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وزارت کے ختم ہونے کے بعد، نسلی، صنفی اور جسمانی معذوری پر مبنی امتیاز کے خلاف وفاقی تحفظات کمزور ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی طالبعلمی قرضوں اور مالی امداد کی نگرانی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ امریکی کالج طلبہ کی ایک بڑی تعداد کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرین کا انتباہ: تعلیمی ماڈل کی تباہی
تعلیمی نظام کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وزارت کے تحلیل ہونے سے مرکزی سطح پر تحقیق، پالیسی سازی اور ڈیٹا کا ایک مربوط نظام ختم ہو جائے گا۔ نیشنل سینٹر فار ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس کے زیادہ تر ملازمین کو مرخص کیا جا چکا ہے، جو کہ ایک صدی سے زائد عرصے سے تعلیمی پالیسیوں کے لیے معلومات فراہم کر رہا تھا۔
سیاسی تناظر: حمایت صرف ریپبلکن کی جانب سے
ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا، اور موجودہ صورتحال میں ڈیموکریٹک پارٹی اس کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔ حالیہ رائے شماری کے مطابق 58 فیصد امریکی شہری اس اقدام کے مخالف ہیں۔
تاہم، ریپبلکن پارٹی اور ہیرٹیج فاؤنڈیشن جیسے دائیں بازو کے ادارے اسے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔
نتیجہ: ایک خطرناک تجربہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارتِ تعلیم کا خاتمہ امریکہ میں تعلیمی برابری، طلبہ کے حقوق، اور معیارِ تعلیم کو سخت متاثر کرے گا۔ اگرچہ ٹرمپ اس اقدام کو ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن اس کے ممکنہ نتائج امریکی معاشرے کے کمزور طبقات پر انتہائی منفی پڑ سکتے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی غلطی تھی، ترمیم کی ضرورت ہے، شاہد خاقان عباسی
?️ 7 جنوری 2023اسلام اباد(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)
جنوری
تل ابیب کے لیے "جدید کے رتھ” کے خطرات؛ صیہونیوں کے درمیان خلیج کو بڑھانا
?️ 6 جون 2025سچ خبریں: گڈیون آپریشن نہ صرف غزہ میں صہیونیوں کے اہداف کو
جون
دشمن کو اپنے اسیروں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں
?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سینئر رکن اسامہ حمدان
دسمبر
طالبان: قطر افغانستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے
?️ 29 اگست 2025سچ خبریں: طالبان حکومت کی وزارت صنعت و تجارت نے اعلان کیا
اگست
سینیٹ اجلاس: فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کے خلاف سینیٹرز کا احتجاج
?️ 15 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے
نومبر
کیا اسرائیل میں غزہ پر زمینی حملہ کرنے کی ہمت ہے؟
?️ 15 اکتوبر 2023سچ خبریں: نیویارک ٹائمز اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ پر
اکتوبر
سندھ میں تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ
?️ 22 اگست 2021کراچی(سچ خبریں) عالمی وباء کورونا وائرس کے پیش نظر محکمہ تعلیم سندھ
اگست
عمران خان نے سعودی عرب سے آتے ہی اجلاس طلب کر لیا
?️ 10 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب کا کامیاب
مئی