?️
سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آئندہ ممکنہ جنگ میں ایران کی حکمت عملی، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے معاملے اور خطے میں ایران کے اتحادیوں کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں اپنے تجزیے میں اہم دعوے کیے ہیں۔
خطے کے تزویراتی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے آئندہ ممکنہ جنگ میں امریکی اور صہیونی جارحین کے لیے ایران کی جانب سے تیار کیے گئے سرپرائزز کا حوالہ دیتے ہوئے اس جنگ میں تہران کی حکمت عملی کے بارے میں پیش گوئی کی ہے۔
خطے کے تزویراتی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنی ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے 12 خلاف ورزی کرنے والے بڑے تیل بردار جہازوں پر حملوں کا ذکر کیا۔
ان جہازوں نے ایران کے سکیورٹی انتظامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔ عطوان نے لکھا کہ یہ صورت حال امریکہ کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں تجارتی جہاز رانی بحال کرا سکتا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مدر آف آل بمز یعنی تمام بموں کی ماں سے بمباری کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ بھی اس کارروائی کے نتائج کا خوف ہے۔
ان کے مطابق، ایرانی قوم اور حکومت اب امریکی و صہیونی حملوں سے خوف زدہ نہیں ہیں اور کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی بلند سطح پر تیار ہیں۔ عطوان نے مزید کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں تیزی لانے کی کوشش بھی اسی خوف اور گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔
عطوان نے کہا کہ ایران کا 8 ماہ تک محاصرہ کرنے، جس میں بندرگاہوں کی بندش بھی شامل تھی، کے باوجود نظام حکومت تبدیل کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔
اسی طرح دشمن ایرانی عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے اکسانے میں بھی ناکام رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں جو کچھ ہوا، وہ اس کے بالکل برعکس تھا؛ ملک کے رہنما اور حکومت کے ساتھ قومی یکجہتی میں اضافہ ہوا اور ان کی حمایت مزید مضبوط ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کے لیے ٹرمپ کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام انڈے لیکوڈ پارٹی اور اس کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں۔
عطوان نے امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ مشترکہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس جنگ میں ایران کے اتحادی کامیاب ہوں گے اور روز بروز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے۔
ان کے بقول، یہ اتحادی جنگ میں داخل ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور اس کے آغاز کے منتظر ہیں تاکہ تمام سرخ لکیریں عبور کرسکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان کی حزب اللہ اپنے خلاف کیے گئے حملے کے اثرات سے نکل چکی ہے اور اپنی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر بحال کرچکی ہے۔
ان کے مطابق، یمن کی انصار اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئی ہے، عراق کی الحشد الشعبی اور حماس بھی ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں اور میدان میں موجود ہیں۔
اس فلسطینی تجزیہ کار نے زور دیا کہ امریکی اور صہیونی اتحاد اس لڑائی میں سب سے بڑا نقصان اٹھائے گا، خواہ جارحیت کا آغاز وہ خود کرے یا ایران پہل کرتے ہوئے بمباری شروع کردے۔
ان کے مطابق، ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور ہزاروں بحری میزائل، جن میں کلسٹر وارہیڈز والے میزائل بھی شامل ہیں، سب ایک بڑی جنگ کے انتظار میں ہیں۔
عطوان نے کہا کہ آئندہ جنگ کے لیے ایران کی حکمت عملی امریکی فوجیوں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے پر مبنی ہوگی، خواہ وہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں پر موجود ہوں یا اردن اور خلیجی خطے میں واقع امریکی اڈوں پر تعینات ہوں۔
ان کے مطابق، ایران زیادہ سے زیادہ امریکی فوجیوں کو قیدی بنانے کی بھی کوشش کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں پر موجود 50 ہزار میرینز کی لاشوں کا تابوتوں میں امریکہ واپس پہنچنا، امریکہ کو شکست دینے اور خطے سے اس کے ذلت آمیز انخلا کا مختصر ترین راستہ ہوگا۔ عطوان نے اس صورت حال کا موازنہ افغانستان، عراق، لبنان اور ویتنام میں امریکہ کو پیش آنے والے حالات سے کیا۔
مضمون کے اختتام پر عطوان نے دعویٰ کیا کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے کلسٹر وارہیڈز والے میزائلوں نے تل ابیب کے بیشتر محلوں کو تباہ کردیا تھا اور 70 لاکھ صہیونی آبادکاروں کو دن رات پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جنگ میں بھی ممکن ہے کہ حیفا، تل ابیب، عسقلان، اسدود اور ایلات میں بلند و بالا عمارتیں اسی طرح منہدم ہوتی دکھائی دیں، جس طرح نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتیں گری تھیں۔
ان کے مطابق، ایسی صورت میں صہیونی حکومت کی فوجی سنسرشپ بھی ان حقائق کو چھپانے، ان کی فلم بندی روکنے اور ان کی منظر عام پر آنے والی تصاویر کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کو یوکرین میں پراکسی جنگ بند کرنی چاہیے:کانگریس رکن
?️ 4 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کی نمائندہ خاتون نے کہا کہ یہ ملک یوکرین
اپریل
بلوچستان: اختر مینگل اور حکومتی وفد میں مذاکرات ناکام، لکپاس میں بی این پی کا دھرنا جاری
?️ 31 مارچ 2025لکپاس: (سچ خبریں) سردار اختر مینگل اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات
مارچ
ٹرمپ کے متضاد بیانات اور دھمکیوں کا تسلسل اور اس کی نئی جنگی پوسٹ
?️ 24 مئی 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جہاں وہ تہران اور واشنگٹن کے
مئی
گرفتاری کے خوف سے نیتن یاہو کا غزہ امن کونسل کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
?️ 22 جنوری 2026سچ خبریں: بنیامین نیتن یاہو نے سوئزر لینڈ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت
جنوری
یمن کی ناکہ بندی اور پابندیاں جنگ بندی کی توسیع میں رکاوٹ
?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:یمن کی قومی نجات کی حکومت کے نائب وزیر خارجہ نے
جولائی
نیتن یاہو عفریت ہے، فلسطینی بدلہ لیں گے: جو بائیڈن کا بیٹا
?️ 24 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے اسرائیلی
جولائی
الاسکا کے ساحل کے قریب امریکی جنگی طیاروں نے روسی طیاروں کا پھیچا کیا
?️ 20 فروری 2026الاسکا کے ساحل کے قریب امریکی جنگی طیاروں نے روسی طیاروں کا
فروری
آپریشن غضب للحق: 796 دہشتگرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ، 44 پر قبضہ
?️ 5 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق
اپریل