?️
سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے غیرمستقیم مذاکرات کو قبول کرنا اور ایک طرح سے ایران کی شرائط کے سامنے تسلیم ہونا، تجزیہ کاروں کو عمان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے موقف پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والے پہلے دور غیرمستقیم مذاکرات نے عرب اور مغربی ماہرین و تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران نے طاقت کی علامات کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی ہے اور ساتھ ہی اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
اخبار الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ جانتا ہے کہ بے ترتیب دباؤ خطے میں وسیع تنازعات کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے ہم امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں، واشنگٹن نے پہلے مرحلے میں غیرمستقیم مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔
امریکہ خطے میں کسی بھی جنگ کے بھاری مالی و جانی نقصانات سے بخوبی آگاہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران بھی جانتا ہے کہ وہ بڑے شیطان (امریکہ) کے سامنے ہے، لیکن امریکی حکومت پر عدم اعتماد کے باوجود، وہ اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور اسلامی نظام کی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران پابندیوں کے باوجود اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تہران کا ماننا ہے کہ مذاکرات بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک موقع ہیں، لیکن وہ اپنے انقلابی اور نظریاتی اصولوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایران کی خارجہ پالیسی میں کئی اہم عوامل اسے مذاکرات میں ایک کلیدی کھلاڑی بنا رہے ہیں:
1. جیو پولیٹیکل اہمیت: ایران کا جغرافیائی اور استراتژک محل وقوع اس کی خارجہ پالیسی پر براہ راست اور بالواسطہ اثر انداز ہوتا ہے۔
2. معاشی وسائل: تیل، گیس اور دیگر معدنی دولت جیسی عالمی سطح پر اہم اور استراتژک وسائل کی موجودگی۔
3. مضبوط اتحادی نیٹ ورک: بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران کے پاس علاقائی اتحادیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہے جو کسی بھی جارحیت کے خلاف اس کا ساتھ دیتا ہے۔
4. مذاکراتی تجربہ: ایران کو طویل مذاکراتی تجربہ حاصل ہے، جس کی وجہ سے مختلف معاملات پر بات چیت کرنے اور اہم مسائل کو الگ کرنے میں اسے مہارت حاصل ہے۔
ایران کا مذاکراتی موقف واضح ہے:
مذاکرات میں شرکت کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام، میزائلی صلاحیتوں یا اپنے علاقائی اتحادیوں سے دستبردار ہو جائے گا۔
فلسطین کی حمایت اور لبنان، فلسطین اور عراق میں مزاحمتی تحریکوں کی پشت پناہی ایران کی استراتژک پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔
امریکہ کو معلوم ہے کہ اسے تہران کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔
ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام تو مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن میزائلی پروگرام نہیں، کیونکہ یہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا ایک داخلی معاملہ ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
خطے میں کشیدگی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ اردنی وزیرخارجہ کی زبانی
?️ 14 اپریل 2024سچ خبریں: اردن کے وزیر خارجہ نے صیہونی حکومت کے قبضے کے
اپریل
حماس نے مغربی کنارے میں مزاحمت کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا
?️ 31 اکتوبر 2024سچ خبریں: مغربی کنارے کے شمال میں واقع طولکرم کیمپ پر صیہونی
اکتوبر
نائیجر کی ایک مسجد پر مہلک حملہ
?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: گزشتہ ہفتے مسلح افراد نے اس علاقے میں ایک مسجد پر
اکتوبر
بھارت جیلوں میں قید کشمیری حریت رہنماؤں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں
?️ 26 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) ایک طرف جہاں بھارت میں کورونا وائرس کی شدید
اپریل
ایران جیسے طاقتور ملک کا جوہری پروگرام فوجی طریقے سے حل نہیں ہو سکتا: گروسی
?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: رافائل گروسی، ڈائریکٹر جنرل آف دی انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی
جولائی
کتنے فلسطینی بچوں کو بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے؟یونیسف کی رپورٹ
?️ 12 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ(یونیسف) نے غزہ میں 3
جون
اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب سے ملاقات، دہشتگردی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال
?️ 25 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے
جولائی
ایران کسی بھی طاقت کے سامنے سرینڈر نہین ہوگا: پاکستانی اخبار
?️ 23 فروری 2026ایران کسی بھی طاقت کے سامنے سرینڈر نہین ہوگا: پاکستانی اخبار پاکستان
فروری