امریکی انٹیلی جنس نے بھارت اور پاکستان کے مابین طولانی جنگ ہونے کا اندیشہ ظاہر کردیا

امریکی انٹیلی جنس نے بھارت اور پاکستان کے مابین طولانی جنگ ہونے کا اندیشہ ظاہر کردیا

?️

واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی انٹیلی جنس نے بھارت اور پاکستان کے مابین طولانی جنگ ہونے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین شدید جنگ ہوسکتی ہے جو خطے کے لیئے ناقابل تلافی ثابت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین شدید جنگ شروع ہوسکتی ہے جو طولانی ہوگی اور خطے کے لیئے کافی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ جائزہ ہر چار برس بعد پیش کی جانے والی امریکی حکومت کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے جو واشنگٹن میں جاری کی گئی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں مستقبل قریب اور بعید دونوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور یہ پالیسی سازوں کو آئندہ پانچ سے 20 سالوں میں دنیا کی ممکنہ قوتوں کے حوالے سے پیش گوئی کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ بھارت اور پاکستان بڑے پیمانے پر جنگ میں الجھ سکتے ہیں جو کوئی بھی فریق نہیں چاہتا، خاص طور پر ایک ایسے دہشت گرد حملے کے بعد جسے بھارتی حکومت اہم قرار دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے حملے کرنے کی صلاحیت کے باعث، ایسے حملے پر نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد کے خلاف جوابی کارروائی کا عزم اور پاکستان کا اپنے دفاع کا عزم آئندہ پانچ برسوں میں برقرار رہ سکتا ہے یا مزید بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں حکومتوں کے غلط اندازے اس تنازع میں خرابی کا سبب بن سکتے ہے، جسے ایسی سطح تک محدود رکھا گیا ہے جسے ہر فریق سمجھتا ہے کہ وہ اس سے نمٹنے میں کامیاب رہے گا۔

اس رپورٹ میں واشنگٹن میں موجود پالیسی سازوں کو خبردار کیا گیا کہ مکمل جنگ ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جس کے معاشی اور سیاسی اثرات برسوں تک مرتب ہوں گے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ افغانستان میں امریکی پالیسی اور پڑوسی ممالک پر اس کے اثرات جنوبی ایشیا کی کلیدی غیر یقینی صورتحال میں سرفہرست ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگلے سال میں افغانستان میں کیے جانے والے امریکی اقدامات کے پورے خطے بالخصوص، پاکستان اور بھارت پر نمایاں نتائج مرتب ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ایک سچ ہے کہ اگر افغانستان میں سیکیورٹی خلا پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں طالبان اور اس کے افغان مخالفین کے مابین خانہ جنگی، علاقائی دہشت گردی نیٹ ورکس یا بیرون ملک جرائم پیشہ عناصر اس خطے کا رخ کرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے مغربی حصے میں سیاسی تناو¿ اور تنازعات مزید بڑھ جائیں گے جو اسلام آباد اور نئی دہلی میں سرد جنگ سے متعلق دیرینہ فیصلوں کو تقویت بخشیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو مزید ہوا دیں گے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ امریکا کے خطے سے اچانک انخلا سے شاید یہ خدشات بڑھ جائیں گے کہ امریکا، جنوبی ایشیا میں دلچسپی کھو دے گا۔امریکی انٹیلی جنس نے اندازہ لگایا ہے کہ بھارت اور چین بھی اس تنازع کی جانب جاسکتے ہیں جس کی خواہش کوئی حکومت نہیں رکھتی، خاص طور پر اگر متنازع سرحد کے اہم حصے پر فوجیں تیزی سے کسی تنازع میں ایک دوسرے کو چیلنج کرتی ہیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی پارلیمنٹ میں فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری، عالمی تشویش میں اضافہ

?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:صہیونی پارلیمنٹ میں فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے قانون

سوریہ میں امریکی اڈے پر ایک اور حملہ

?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں:عراق کی اسلامی مزاحمت نے آج بدھ کو شام کے دیرالزور

غاصب بھارت کو جموں وکشمیرمیں اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ، نعیم خان

?️ 24 جنوری 2023سرینگر:(سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء نعیم احمد خان

ضمنی الیکشن میں سیاسی جماعتیں متحرک

?️ 23 جون 2022لاہور(سچ خبریں) مسلم لیگ ق نے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی حمایت کا

ٹرمپ امریکہ کی نرم طاقت کو ختم کر رہے ہیں، عالمی اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے:امریکی میگزین

?️ 5 مئی 2026سچ خبریں:امریکی میگزین فارن پالیسی کے مطابق، ٹرمپ کا سخت طاقت پر

عراق پر 23 سالہ امریکی قبضے کا خاتمہ

?️ 1 اکتوبر 2026سچ خبریں: عراق پر امریکی دہشت گرد فوج کے حملے کے 23

غزہ جنگ کا مغربی کنارے پر کیا اثر پڑے گا؟ صیہونی وزیر جنگ کی زبانی

?️ 12 دسمبر 2023سچ خبریں: صیہونی وزیر جنگ یواف گیلنٹ نے پیر کو ایک تقریر

سوشل میڈیا پر کچھ لکھنے سے پہلے ضرورسوچیں: فیصل قریشی

?️ 5 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے