?️
سچ خبریں:عرب اخبار رائے الیوم کے مطابق، عراق کی فضائی حدود میں امریکی اور صیہونی جنگی طیاروں کی مشترکہ مشقوں نے بغداد کی خودمختاری، غیر جانب داری اور پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے اعلان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بعض ذرائع ابلاغ نے رواں ماہ 12 اکتوبر کی شب عراق کی فضائی حدود میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقوں کی خبر دی ہے۔ ایک عربی اخبار نے اس اقدام کے خطرناک نتائج پر روشنی ڈالی ہے۔
الیکٹرانک اخبار رائے الیوم نے اپنی رپورٹ میں ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ عراق کی فضائی حدود میں ہونے والی ان مشترکہ فوجی مشقوں میں ایف-16 اور ایف-35 جنگی طیاروں کے علاوہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔
تجزیہ نگار نے کہا کہ عراق کی فضائی حدود کی اس کھلی خلاف ورزی پر ملک کی خودمختار حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق، یہ فوجی مشقیں عراق کے اعلان کردہ مؤقف سے مکمل طور پر متصادم ہیں، کیونکہ عراقی حکومت واضح کر چکی ہے کہ وہ خطے کی کسی بھی جنگ یا تنازع میں فریق نہیں بنے گی اور اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو پڑوسی ممالک، بالخصوص ایران، کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
اس مبینہ خلاف ورزی کے ساتھ ہی عراق اور شام کے لیے امریکی نمائندے ٹام باراک نے عراقی حکام سے ملاقات کے دوران، عراق میں امریکی سفیر یا ناظم الامور کی موجودگی میں، کہا کہ امریکہ صوبۂ نینویٰ کی حمایت اور اس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی یہ مشترکہ فوجی مشقیں کئی پیغامات کی حامل ہیں:
اول: امریکہ عراق کی خودمختاری اور ان جنگوں و تنازعات کے بارے میں اس کے اعلان کردہ غیر جانب دارانہ مؤقف کا کوئی احترام نہیں کرتا جن میں عراق فریق نہیں ہے۔
دوم: عراق کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔
سوم: عراق کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امریکہ کے بیانات اور اس کے عملی اقدامات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
چہارم: وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ جنگ اور قومی سلامتی کونسل کے فیصلہ سازوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ ان مشترکہ مشقوں کے دوران اس بات پر کوئی تشویش ظاہر نہیں کی کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ اس کے برعکس، انہیں ان تعلقات کے استحکام، تسلسل اور موجودہ سطح پر برقرار رہنے کا پورا اعتماد ہے۔
رائے الیوم مزید لکھتا ہے کہ عراقی حکومت نے اس مبینہ خلاف ورزی پر کوئی اعتراض نہیں کیا، حالانکہ یہ کارروائی ایسی حکومت کی شرکت سے انجام دی گئی جس کے ساتھ عراق بدستور جنگی یا مخاصمانہ صورت حال میں ہے۔
تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ یہ درست ہے کہ امریکہ اب بھی عراق کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے دباؤ کے لیے استعمال کرتا ہے، لیکن یہ صورت حال عراقی حکومت کی جانب سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی طرف سے عراق کی فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
عراق کی فضائی حدود، امریکی صیہونی جنگی مشقیں، رائے الیوم، عراق کی خودمختاری، امریکی جنگی طیارے، ایف-16، ایف-35، ٹام باراک، عراق ایران تعلقات، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، امریکی خارجہ پالیسی


مشہور خبریں۔
اداکار طلعت اقبال کا علالت کے باعث امریکا میں انتقال
?️ 24 ستمبر 2021نیویارک (سچ خبریں) پاکستان کے سینئر اداکار طلعت اقبال امریکا کے ہسپتال
ستمبر
ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ پائیدار حل تک پہنچنے میں ناکامی کی علامت ہے: پزشکیان
?️ 2 اپریل 2026سچ خبریں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام اپنے
اپریل
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 18 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود
اپریل
بائیڈن کی یو اے ای کو یقین دہانی یمن پر دوبارہ جارحیت کرنے کی کوشش ہے: صنعاء
?️ 19 جنوری 2023سچ خبریں:یمنی کی قومی حکومت کے وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے
جنوری
معیاری بیج کی فراہمی سے ملک میں زرعی انقلاب لایا جاسکتا ہے، وزیراعظم
?️ 24 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت
مارچ
تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے اطراف اسرائیل کی بمباری، عملہ محفوظ رہا
?️ 27 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے
مارچ
لبنانی پارلیمنٹ ممبر کا امریکہ پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزم
?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:لبنان کے ایک معروف رکن پارلیمنٹ اور حزب اللہ کے
اپریل
واشنگٹن روس میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں
?️ 10 جون 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدارتی امیدوار اور ارب پتی امریکی کاروباری وویک رامسوامی
جون