?️
سچ خبریں:صیہونی اخبار نے مروان برغوثی، احمد سعدات اور دیگر سرکردہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اہل اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔
صیہونی اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق، غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت مروان برغوثی، احمد سعدات اور عباس السید سمیت کئی نمایاں فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے، ایک صہیونی تجزیہ کار نے اس معاہدے کو خطرناک اسٹریٹجک غلطی اور دہشتگردوں کے آگے جھکنے کے مترادف قرار دیا۔صیہونی اخبار اسرائیل ہیوم نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت متعدد سرکردہ فلسطینی رہنماؤں کو صہیونی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک ٹائمز: حماس کے رہنماؤں کے قتل کا گروپ کی بقا پر کوئی اثر نہیں پڑا
اخبار کے مطابق، صہیونی تجزیہکار اور کالم نویس ناداف شراجای نے اس معاہدے کو ایک اسٹریٹجک اور خطرناک غلطی قرار دیا ہے،ان کے بقول اگرچہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ معاہدے کو ایک ناگزیر شر کے طور پر قبول کیا ہے، لیکن اسرائیل کسی صورت بھی اسے فتح نہیں کہہ سکتا۔
شراجای نے اسرائیل ہیوم میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ کوئی کامیابی نہیں بلکہ دہشتگردوں کو تاوان دینا اور ان کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہے۔ اسرائیل نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سیکیورٹی کمزور کر لی ہے۔
کون سے فلسطینی قیدی رہا ہوں گے؟
اس رپورٹ کے مطابق، معاہدے کے تحت کئی نمایاں فلسطینی شخصیات کو رہائی دی جائے گی، جن میں درج ذیل نام شامل ہیں:
- مروان برغوثی — فلسطینی تحریکِ فتح کے رہنما، جو پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
- عباس السید — جن پر ایک کارروائی میں 30 صہیونیوں کی ہلاکت اور 160 کے زخمی ہونے کا الزام ہے اور انہیں 35 مرتبہ عمر قید سنائی گئی تھی۔
- حسن سلامہ — جنہیں 46 بار عمر قید کی سزا دی گئی تھی، اس بنیاد پر کہ انہوں نے درجنوں اسرائیلیوں کو ہلاک کیا۔
- احمد سعدات — فلسطینی عوامی محاذ برائے آزادیِ فلسطین (PFLP) کے سکریٹری جنرل، جنہیں اسرائیلی وزیر رحبعام زئیوی کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ تمام شخصیات طویل عرصے سے صہیونی جیلوں میں قید تھیں اور فلسطینیوں کے لیے مزاحمت و استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
شراجای نے اپنے مضمون میں خبردار کیا کہ یہ معاہدہ اگرچہ اسرائیلی قیدیوں کے لیے وقتی خوشی لایا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک خطرناک تسلیم اور تزویراتی شکست ہے جو مستقبل میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے ساتھ معاہدہ دراصل ان قوتوں کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے جو اسرائیل کے وجود کو چیلنج کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطینی رہنماؤں کی رہائی کی مخالفت
صہیونی میڈیا کے اندر بھی اس معاملے پر شدید اختلاف پایا جا رہا ہے۔ کئی اسرائیلی مبصرین اس رہائی کو مزاحمت کی اخلاقی و سیاسی فتح قرار دے رہے ہیں،
جبکہ سخت گیر صہیونی تجزیہکار اسے نیتن یاہو حکومت کی سب سے بڑی تزویراتی کمزوری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا مصری اور سعودی ہم منصب سے رابطہ، غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 4 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے
اکتوبر
صیہونیوں کی لبنانی زمین پر ناکامی
?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے فضائی اور توپخانے کے حملوں میں شدت پیدا
اکتوبر
ہم نے ایران میں چابہار بندرگاہ کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں: ہندوستان
?️ 4 اپریل 2022سچ خبریں: ہندوستان کے صدر نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران
اپریل
اسحاق ڈار کا ایرانی سفارت خانے کا دورہ، تعزیتی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے
?️ 4 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و
مارچ
گورنر سندھ کی ایرانی، قطری اور بحرین کے سفراء سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں
?️ 3 مارچ 2026کراچی (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ایرانی، قطری اور
مارچ
اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر حل کرے ، مسرت عالم بٹ
?️ 15 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طورپر نظربند
مارچ
مانی اس لئے اچھے لگے کہ وہ دوسروں سے مختلف کام کرتے ہیں: اداکارہ حرا
?️ 27 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)اداکارہ حرا نے بتایا کہ انہیں مانی اسی وجہ سے
مارچ
اومیکرون کا قہر جاری، ماہرین نے اموات کا خدشہ ظاہر کردیا
?️ 17 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان بھر میں بہت تیزی
جنوری