ٹرمپ کی ساکھ کا بحران، اب امریکہ کے لیے عالمی اعتماد کا مسئلہ بن گیا ہے:امریکی میڈیا

ٹرمپ

?️

سچ خبریں:ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ساکھ کا بحران اب امریکہ کی ساکھ کا بحران بن چکا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم پالیسیوں اور متضاد بیانات نے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ امریکہ کے عالمی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، خصوصاً ایران سے متعلق پالیسیوں میں۔

ایم ایس این بی سی کے سینئر تجزیہ کار نکولس گروسمن نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا ہے جہاں نہ وہ کوئی بڑا سفارتی یا اسٹریٹجک فائدہ حاصل کر پا رہے ہیں اور نہ ہی واضح ناکامی کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی برسوں کی غیر معتبر پالیسیوں نے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت کو بھی داغدار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. کوئی مستقل مطالبہ موجود نہیں

   ٹرمپ نے مختلف اوقات میں ایران کے حوالے سے مختلف اور متضاد مطالبات پیش کیے، جن میں حکومت کی تبدیلی، غیر مشروط ہتھیار ڈالنا، ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، میزائل پروگرام پر پابندی، اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنا شامل ہیں۔

  1. ایران کے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور مسلسل متضاد بیانات

   ٹرمپ نے 2015 کے ایران کے جوہری معاہدے (برجام) سے علیحدگی اختیار کر کے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، حالانکہ ایران اس معاہدے کی پاسداری کر رہا تھا۔ 2025 میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے بعد کہا کہ ایران کئی ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں دعوے حقیقت سے بعید تھے۔

  1. دھمکیوں سے مذاکرات تک متضاد حکمت عملی

   ٹرمپ نے ایک طرف سخت ترین دھمکیاں دیں، یہاں تک کہ ایک تہذیب کے خاتمے کی بات کی، جبکہ دوسری طرف ایران کی شرائط پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ اس صورتحال میں ایران کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ کون سی بات سنجیدہ ہے اور کون سی محض بیان بازی۔ نہ ان کی دھمکیاں قابلِ اعتبار رہیں، نہ وعدے اور نہ ہی معاہدے۔

  1. یورپ میں اعتماد کا فقدان

   ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے کی دھمکی دے کر یورپی اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس سے قائل نہ ہو سکے۔ انہوں نے گرین لینڈ جیسے علاقوں کے حصول کی بات کی اور اتحادیوں پر عدم تعاون کے الزامات لگائے۔ اس کے نتیجے میں یورپی ممالک میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر روس حملہ کرے تو کیا امریکہ واقعی نیٹو کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائے گا۔

  1. ٹرمپ کے بعد بھی باقی رہنے والے اثرات

   رپورٹ کے مطابق اگر آئندہ امریکی صدر زیادہ قابلِ اعتماد بھی ہو، تب بھی دنیا یہ سمجھے گی کہ امریکہ کسی بھی معاہدے سے زیادہ سے زیادہ چار سال کے اندر پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ یہ تاثر مستقبل کے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو ابتدا ہی سے کمزور بنا دیتا ہے کیونکہ ایک بار کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

 نتیجہ

   نکولس گروسمن کے مطابق ٹرمپ نہ تو تہران سے کوئی بڑا فائدہ حاصل کر سکے ہیں، نہ انہیں اپنے اتحادیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، اور نہ ہی ان کے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ ہے۔ ان کے بقول امریکہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور ٹرمپ کا ذاتی بحران اب ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

افغانستان پر قبضے کے خاتمے پر یمن کا رد عمل

?️ 31 اگست 2021سچ خبریں:یمنی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے افغانستان پر قبضے کے

امریکی وزیر خارجہ کا مغربی کنارے میں صہیونیستوں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار 

?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مغربی کنارےمیں صہیونیست گروہوں کی

پاکستانی وزیر اعظم: علاقائی امن کے لیے تہران کی سفارت کاری قابل تعریف ہے

?️ 26 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر اعظم نے پیچیدہ علاقائی اور عالمی مسائل میں

سوویت یونین کے آخری رہنما میخائل گورباچوف کا انتقال ہوا

?️ 31 اگست 2022سچ خبریں:    روسی میڈیا نے بدھ کی صبح اطلاع دی کہ

بھار ت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیاہے: کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 10 جون 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

توشہ خانہ کیس: ہائیکورٹ کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

?️ 4 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

کیا بائیڈن بن سلمان سے ہاتھ ملائیں گے؟

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:اگر بائیڈن اور بن سلمان ہاتھ ملاتے ہیں تو امکان ہے

سینڈرز: امریکہ کو نیتن یاہو کی طرف سے دوسری جنگ میں داخل نہیں ہونا چاہیے

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: ورمونٹ کے آزاد برنی سینڈرز نے ایران پر اسرائیلی وزیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے