ٹرمپ اور ایلون مسک میں بجٹ اور حکومتی معاہدوں پر شدید محاذ آرائی

 ٹرمپ اور ایلون مسک میں بجٹ اور حکومتی معاہدوں پر شدید محاذ آرائی

?️

سچ خبریں:ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔ بجٹ، سرکاری معاہدوں اور ذاتی الزامات کے باعث دونوں بااثر شخصیات آمنے سامنے آ گئیں، جس کے سیاسی و اقتصادی اثرات متوقع ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے بااثر ترین افراد میں سے ایک، ایلون مسک کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اختلافات اب صرف بجٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں کے درمیان ایک ذاتی اور علنی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت نئی سطح پر پہنچی جب ایلون مسک، جو اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ ہیں، نے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری بجٹ پر شدید تنقید کی۔ جواباً، ٹرمپ نے انہیں پاگل قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ان کی کمپنیوں کے تمام وفاقی معاہدے منسوخ کر دیے جائیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے مسک سے کہا ہے کہ وہ سرکاری مشاورتی بورڈ کی سربراہی چھوڑ دیں، اور سرکاری مالی تعاون ختم کرنے سے اربوں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسک کو بجٹ پر اعتراض اس وقت ہوا جب انہیں الیکٹرک گاڑیوں پر دی جانے والی سبسڈی میں کٹوتی کا علم ہوا۔
ایلون مسک نے ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت نہ کرتا تو وہ ہار جاتے، انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اسپیس ایکس کا ڈریگن اسپیس کرافٹ کا مشن معطل کیا جا رہا ہے جو صدر کے بیانات کا عملی جواب ہے۔
مسک نے ایک سوشل میڈیا پول بھی جاری کیا جس میں ایک نئے سیاسی جماعت کے قیام کی تجویز رکھی گئی۔ اس تجویز کو صارفین کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملی، جسے امریکی سیاسی منظرنامے میں ممکنہ بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوا جب ایلون مسک نے متنازع جنسی استحصال کے کیس، جفری ایپستین کی فائلز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ ان کا نام بھی ان دستاویزات میں شامل ہے، مسک نے لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ فائلز ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔
یہ صورتحال ان دونوں بااثر شخصیات کے درمیان تاریخی اختلاف کی طرف اشارہ کرتی ہے، حالانکہ ماضی میں دونوں کے تعلقات قریبی سمجھے جاتے تھے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے نہ صرف سیاسی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اس سے امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل حزب اللہ کے سامنے کیوں نہیں ٹِک سکتا؟

?️ 15 جون 2024سچ خبریں: طوفان الاقصی آپریشن کے بعد ماہرین نے اس امکان کا

کشمیریوں کااستصواب رائے کا مطالبہ جائز اورخالصتاً جمہوری ہے: حریت کانفرنس

?️ 3 فروری 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی آپریشنز کو وسعت دینے کی تیاری میں

?️ 30 اپریل 2025سچ خبریں:معاریو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جب کہ مصر کی زیرقیادت

گزشتہ 24 گھنٹوں میں یروشلم اور مغربی کنارے میں 28 استقامتی کارروائیاں

?️ 4 مارچ 2023فلسطینی مرکز موطی نے ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے اعلان کیا ہے

حزب اللہ کے ساتھ جنگ اسرائیل کو مہنگی پڑ سکتی ہے:صیہونی وزیر جنگ

?️ 18 فروری 2021سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ نے اعتراف کیا کہ حزب اللہ کے ساتھ

موساد نے قطر میں حماس رہنماؤں کے خلاف زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کی تھی

?️ 13 ستمبر 2025موساد نے قطر میں حماس رہنماؤں کے خلاف زمینی آپریشن کی منصوبہ

ممتاز بھٹو انتقال کر گئے

?️ 19 جولائی 2021سندھ (سچ خبریں) ممتاز بھٹو کے ترجمان ابراہيم ابڑو نے ان کے

اسرائیلی فوج کے شام میں کارنامے

?️ 6 اپریل 2025سچ خبریں: معاریو اخبار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے