صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی اب بھی جاری ہے: امریکی کانگریس رکن

نسل کشی

?️

سچ خبریں:امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن نے اسرائیل کو بعض امریکی جارحانہ ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کے لیے اپنے مجوزہ بل کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی اب بھی جاری ہے۔

امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن ڈیلیا رامیرز نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی نسل کشی جاری رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل کو بعض امریکی جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے اپنے مجوزہ بل کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔

 ان کے مطابق، غزہ میں بمباری اور بھوک کو ہتھیار بنانے کے ذریعے فلسطینیوں کو بدستور نشانہ بنایا جارہا ہے۔

امریکی ریاست الینوائے سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف صیہونی نسل کشی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

 انہوں نے اسرائیل کو امریکی بموں کی فراہمی روکنے کے لیے ایک بل منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔

رامیرز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کررہا ہے، اور اس جرم کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان ادا کررہے ہیں۔

اس کانگریسی رکن نے مزید کہا: ایک طرف صیہونی فضائی حملے غزہ میں بچوں اور خاندانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں، تو دوسری طرف تقریباً 5 لاکھ فلسطینیوں کو خوراک اور انسانی امداد تک رسائی سے محروم کردیا جانے والا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: چاہے بمباری کے ذریعے ہو یا بھوکا رکھ کر، نسل کشی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں اسے ختم کرنا ہوگا، اور ہم اس مقصد کے لیے میرے مجوزہ اسٹاپ دی بمز ایکٹ (بموں کی فراہمی روکنے کا قانون) کی منظوری سے آغاز کرسکتے ہیں۔

رامیرز نے گزشتہ سال یہ بل، جس کا نمبر H.R. 3565 ہے، امریکی کانگریس کی تین دیگر ڈیموکریٹ ارکان سارہ جیکبز، پرامیلا جے پال اور مارک پوکن کے تعاون سے پیش کیا تھا۔

اس بل میں اسرائیل کو مختلف اقسام کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی منتقلی روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں بنکر شکن بم BLU-109، MK80 سیریز کے بم، GBU-39 کم قطر والے بموں کی بعض اقسام، مشترکہ براہ راست حملہ آور گائیڈڈ گولہ بارود (JDAM)، SPICE گلائیڈ بم کٹس، 120 ملی میٹر کے ٹینک گولے اور 155 ملی میٹر کے توپ خانے کے گولے شامل ہیں۔ ان میں سفید فاسفورس پر مشتمل گولہ بارود بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 سے غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 175 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اس علاقے کے تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بھی 1534 فلسطینی ہلاک اور مزید 5486 زخمی ہوچکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

گروسی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بننے کے خواہشمند 

?️ 13 جون 2026سچ خبریں:  رافیل گروسی، ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ایٹمک انرجی ایجنسی (IAEA) نے اعلان

اسرائیل کو نسل پرست حکومت قرار دیا جانا چاہیے:جنوبی افریقہ کی وزیرخارجہ

?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں کے

مسافروں کے لیے کرنسی ڈیکلریشن فارم جمع کروانے کی شرط پرانی ہے، ایف بی آر

?️ 12 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر  نے واضح کیا ہے کہ

جنوبی لبنان پر صہیونی حکومت کا ڈرون حملہ

?️ 17 جولائی 2026سچ خبریں:جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں اور جنگ بندی

عراق کے نئے وزیراعظم کا نام 9 جنوری تک سامنے آئے گا

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: عراقی کوآلیشن کوآرڈینیشن فریم ورک کے رکن عصام شاکر نے تصدیق

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کا سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا فیصلہ

?️ 18 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آزاد

نوروز امن، امید اور روشنی کا پیغام لے کر آئے گا۔ صدرِ مملکت

?️ 20 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ پاکستان نے نوروز کے موقع پر قوم

اداروں کی آپس میں چپقلش ہو تو ملک ترقی نہیں کرسکتا، راجا پرویز اشرف

?️ 16 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور اسپیکر قومی اسمبلی راجا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے