کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے پاس کافی ثبوت موجود نہیں ہیں

کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے پاس کافی ثبوت موجود نہیں ہیں

?️

واشنگٹن (سچ خبریں)  امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی انٹلیجنس ایجنسیوں کو یہ ذمہ داری دی تھی کہ وہ 90 دن کے اندر اندر اس بات کا پتہ لگائیں کہ کورونا وائرس کیسے اور کہاں سے پھیلا لیکن امریکی صدر کی جانب سے دی گئی یہ تاریخ ختم ہورہی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کے پاس ابھی بھی کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کے بارے میں کافی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹلیجنس ایجنسیوں کو دی گئی امریکی صدر کی 90 دن کی آخری تاریخ ختم ہو رہی ہے، اور اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس جس کے بارے میں امریکہ یہ دعویٰ کررہا ہے کہ یہ لیبارٹری سے شروع ہوا ہے اس کا نقطہ آغاز کہاں ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ جب امریکی سیکیورٹی کے ادارے کورونا وائرس کے ماخذ کی تلاش کر رہے ہیں، صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے دعوی کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لئے 90 دن کی ڈیڈ لائن مناسب جواب نہیں دے پائے گی اور اس کام کے لیئے مزید وقت درکار ہے۔

ایک طرف جہاں جولائی کے وسط میں جو بائیڈن کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق 45 روزہ رپورٹ کے منتظر ہیں، ایسے میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے تسلیم کیا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کے لئے 90 دن کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بھی کسی خاص نتیجے تک نہیں پہونچا جاسکے گا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ امریکی انٹلیجنس خدمات اس بات کا کافی ثبوت تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسان کے رابطے کے ذریعے پھیلا ہے یا ان کے دعوے کے مطابق چین کے شہر ووہان میں موجود ایک تجربہ گاہ سے پھیلا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے ووہان کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ وائرس لیبارٹری سے شروع نہیں ہوا بلکہ جانوروں سے انسان میں منتقل ہوانے والی قیاس آرائیاں زیادہ درست ہیں، لیکن واشنگٹن انتظامیہ کے دباؤ میں اس تنظیم نے اپنا یہ نظریہ تبدیل کردیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وائرس کے لیبارٹری سے پھیلنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

اب، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کو ڈھونڈنے کے لئے جس کے بارے امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ چین کے شہر ووہان سے پھیلا ہے، امریکی انٹلیجنس ایجنسیوں کو دی گئی 90 دن  کی ڈیڈ لائن ختم ہورہی ہے، وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کو مزید ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی جانب سے جو الزامات چین پر لگائے جارہے تھے جن کو چین بار بار مسترد کرتا رہا ہے، ان کا جھوٹ ہونا بھی واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے ان بیانات کے بعد ہی امریکا میں چینی سفیر نے ایک بیان جاری کر کے لیباریٹری سے لیک ہونے کے تھیوری کو سازشی نظریہ بتایا۔

بیان میں گر چہ امریکا کا نام نہیں لیا گیا تاہم اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بعض، سیاسی طاقتیں وائرس کے ماخذ اور اس کے نقطہ آغاز کے حوالے سے الزام تراشی کا کھیل کھیل رہی ہے، بعض لوگ اپنی پرانی کھیل کی کتاب کھول رہے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ سلوک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔’

چین کا کہنا ہے کہ اس وبا کو سیاسی رنگ دینے سے اس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے اور چین پہلے ہی اس معاملے کی جامع تفتیش میں تعاون کر چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

پیوٹن یوکرین میں جلد از جلد تنازع ختم کرنا چاہتے ہیں: اردوغان

?️ 20 ستمبر 2022سچ خبریں:    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پیر 19 ستمبر

سندھ ہائیکورٹ نے عدالتی رپورٹنگ کی اجازت دے دی

?️ 27 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کی جانب سے جاری 21

اردنی پارلیمنٹ کا صیہونی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

?️ 22 مارچ 2023سچ خبریں:اردنی پارلیمنٹ کے فلسطینی کمیشن نے صیہونی سفیر کو ملک سے

بین الاقوامی فوجداری عدالت مغرب کا آلہ کار 

?️ 2 اپریل 2025سچ خبریں: نومبر 2024 میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی

یورپی حکام کی ٹرمپ کے بارے میں خوش فہمی

?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں:یورپی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے منتخب صدر

گوگل کروم میں نئے فیچر کا اضافہ کر دیا گیا

?️ 13 نومبر 2021لندن (سچ خبریں) گوگل کی جانب سے کروم براؤزر میں ایک کارآمد

طاقتور کیمرے سے لیس ’ویوو‘ کا مڈ رینج فون متعارف

?️ 24 اکتوبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی ’ویوو‘ نے طاقتور

ملک بھر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ

?️ 1 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے